۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اس فرمان عالی میں خطاب خصوصی طور پر جناب معاویہ سے ہے کیونکہ آئندہ یہ سلطان بننے والے تھے تو اس غیوب داں محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے ہی ان کو طریقہ سلطنت کی تعلیم فرمادی کہ تم بادشاہ بن کر لوگوں کے خفیہ عیوب نہ ڈھونڈھا کرنا درگزر اور حتی الامکان عفووکرم سے کام لینا اور ہوسکتا ہے کہ روئے سخن سب سے ہو کہ باپ اپنی جوان اولاد کو،خاوند اپنی بیوی کو،آقا اپنے ماتحتوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے نہ دیکھے۔بدگمانیوں نے گھر بلکہ بستیاں بلکہ ملک اجاڑ ڈالے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"اور فرماتاہے:"وَلَا تَجَسَّسُوۡا"ہم اپنے عیب ڈھونڈیں اور لوگوں کی خوبیاں تلاش کریں۔خیال رہے کہ یہاں بلا وجہ کی بدگمانیوں سے ممانعت ہے ورنہ مشکوک اوربدمعاش لوگوں کی نگرانی کرنا سلطان کے لیے ضروری ہے،جاسوسی کا محکمہ ملک رانی کے لیے لازم ہے۔