۱؎ حاکم میں بادشاہ وزیر حکام سب ہی داخل۔(مرقات)ریبہ ر کے کسرہ سے بمعنی شک و تہمت،قرآن کریم میں ہے"لَا رَیۡبَ فِیۡہِ"یعنی اگر سلطان یا حکام اپنی رعایا پر بدگمانی کرنے لگیں اور ان کے معمولی کاموں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں اور ان کی بلاوجہ پکڑ دھکڑ کرنے لگیں۔
۲؎ یعنی ان کے دین و دنیا تباہ کردے گا اور ملک میں فساد برپا ہوجائے گا کیونکہ عیوب سے بالکل خالی کوئی کوئی ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کے عیوب کی تلاش نہ کرو بلا وجہ ان پر بدگمانی نہ کرو،احادیث میں گزرچکا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اقراری زانی کو فرمایا شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا۔