| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب اﷲ تعالٰی بادشاہ کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر دیتا ہے ۱؎ کہ جب یہ بھول جائے تو اسے یاد دلائے اور اگر یادکرے تو اس کی مدد کرے ۲؎ اور جب اس کے لیے اس کے سوا کا ارادہ کرتا ہے تو اسے برا وزیر دیتا ہے،اگر بھول جائے تو اسے یاد نہ دلائے اور اگر یاد کرے تو اس کی مدد نہ کرے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی جب اﷲ تعالٰی کسی بادشاہ کی بھلائی چاہتا ہے کہ دین و دنیا اس کی درست رہے تو اسے اچھے وزیرومشیر عطا فرماتا ہے۔وزیر کے معنے ہیں بوجھ اٹھانے والا،وزر کے معنے بوجھ بھی ہیں اور گناہ بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا"اور فرماتاہے:"یَحْمِلُوۡنَ اَوْزَارَہُمْ"چونکہ وزیر پر سلطنت کا بہت بوجھ ہوتا ہے اس لیے اسے وزیر کہتے ہیں۔ ۲؎ کہ اگر بادشاہ کسی معاملہ میں حکم شرعی بھول جائے تو اسے وزیر بتادے یادشدہ حکم کے جاری کرنے میں بادشاہ کا معاون و مددگار ہو۔سبحان اﷲ! اچھا وزیر رب تعالٰی کی رحمت ہے،ایسے ہی اچھی بیوی مرد کے لیے اﷲ کی بخشش ہے۔ ۳؎ کسی خوشامدی ملحد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ گزشتہ خلافتوں میں فتوحات وخیر بہت ہوئی،آپ کی خلافت میں فتنے زیادہ ہوئے اسکی کیا وجہ ہے؟آپ نے فورًا جواب دیا کہ ان خلفاء کے ہم وزیر تھے اور ہم کو وزیرملے تم۔تورایخ کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ کے مشیروں وزیروں نے بہت ہی پریشان کیا،نہروانیوں نے پہلے خود ہی زور دیا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کو علی مرتضٰی اپنا حَکم و پنچ بنا لیں بعد میں خود ہی بولے کہ علی مشرک ہوگئے کہ انہوں نے ماسویٰ اﷲ کو حکم بنالیا،قرآن کریم فرماتاہے:"اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ"اور پھر حضرت علی سے پھرکر خارجی ہوگئے۔(دیکھئے کتب تواریخ اور کتاب ہشت بہشت)