Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
604 - 1040
حدیث نمبر604
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑا جہاد اس کا ہے ۱؎  جو ظالم بادشاہوں کے پاس حق بات کہے۲؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)اور احمدونسائی نے طارق ابن شہاب سے روایت کی ۳؎
شرح
۱؎  یہاں عبارت میں یا تو من سے پہلے جہاد پوشیدہ ہے یا افضل کے بعد اھل پوشیدہ یعنی افضل اھل الجہاد من قال یا افضل الجہاد جہاد من قال لہذا نحوی اعتراض اس پر کوئی نہیں۔

۲؎  اگرچہ ایک کلمہ ہی ہو جیسے ہاں یا نہیں مثلًا فاسق بادشاہ اس سے پوچھے کیا داڑھی منڈانا اچھا ہے،وہ کہہ دے نہیں،یہ نہیں کہنا بڑا جہاد ہے،یہ جہاد اس لیے افضل ہوا کہ کفار پر جہاد کرنے والے کو اپنی موت کا یقین نہیں ہوتا،شاید باز آئے یا مارا جائے مگر اس اﷲ کے بندے کو اپنی موت یا جانی مالی نقصان کا یقین ہوتا ہے کیونکہ یہ اس ظالم کے قبضہ میں ہوتا ہے،نیز اگر بادشاہ اس کی اس تبلیغ سے ظلم سے باز آجائے تو ایک مخلوق کو ظلم سے رہائی نصیب ہوجائے گی،قتل کافر سے ایک کافر کم ہوگا مگر اس تبلیغ سے خلق خدا کو فائدہ ہوگا،نیز یہ کلمہ اپنے نفس پر بڑا جہاد ہے کہ ایسے بادشاہ کے سامنے خوشامد کرنے کو نفس چاہتا ہے۔امام غزالی نے فرمایا کہ ظالم بادشاہ کو تبلیغ صرف وعظ و نصیحت سے ہوسکتی ہے قہر سے نہیں وہ بھی نرمی سے کیونکہ اسے ظالم جابر کہہ کر پکارنا گالیاں دینا سخت فتنہ کا باعث ہے۔(احیاءالعلوم،مرقات)شہد کی ایک بوند بہت سی مکھیوں کو جمع کرلیتی ہے مگر سرکہ کا ایک گھڑا مکھی کو نہیں بلاسکتا۔۳؎  طارق ابن شہاب صحابی ہیں مگر آپ کی روایات بہت ہی کم ہیں خلافت صدیقی میں آپ نے ۳۴ غزوہ کیے     ۶۰ھ؁ میں وفات پائی۔(اشعہ)
Flag Counter