| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگوں میں اﷲ کو زیادہ پیارا اور اﷲ سے زیادہ قریب جگہ والا انصاف والا بادشاہ ہے ۱؎ اور قیامت کے دن تمام لوگوں میں اللہ کو زیادہ ناپسند اور بہت سخت عذاب والا اور ایک روایت میں ہے کہ رب سے بہت دور مجلس والا ظالم بادشاہ ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۳؎
شرح
۱؎ قریب جگہ سے مراد عزت اور مرتبہ ہے یعنی دوسرے بادشاہوں کے مقابلہ میں عادل بادشاہ اﷲ تعالٰی سے زیادہ درجہ ومرتبہ والا ہوگا یا عادل بادشاہ انصاف وعدالت کے لحاظ سے زیادہ قرب والا ہوگا لہذا اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ عادل بادشاہ حضرت صدیق اکبروفاروق اعظم یا دیگر صحابہ کرام سے زیادہ درجہ والا ہوجائے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ آج کل کے بادشاہوں کو عادل کہنا کفر ہے،مرقات کا یہ فتویٰ بالکل درست ہے کہ موجودہ بادشاہوں کا حال سب کو معلوم ہے اور ظلم کو عدل کہنا تمام فقہاء کے نزدیک کفر ہے۔ ۲؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا ظالم بادشاہ ظلم کے اعتبار سے غیر ظالم سے کہیں بدتر ہوگا لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ مسلمان ظالم بادشاہ ابوجہل وغیرہ سے بدتر ہو۔خیال رہے کہ ظالم حاکم اﷲ تعالٰی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور رعایا کے حقوق مارتا ہے اس پر حقوق کا زیادہ بوجھ ہے۔ ۳؎ یہ حدیث امام احمد نے بھی اپنی موطا میں روایت فرمائی،امام احمد ابن حنبل کے بیٹے نے اپنی کتاب زوائد الدھر میں امام حسن سے مرسلًا نقل فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کا پیارا بندہ وہ ہے جو بندوں کا خیرخواہ ہو۔(مرقات)