۱؎ اس قسم کے فرمانوں کی شرح گزشتہ حدیث میں کی جاچکی ہے کہ فائزین کے ساتھ اول ہی سے جنت میں نہ جاسکے گا کیونکہ ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم اور رشوت خور ہوتے ہیں مگر جسے خدا بچائے،مکس کا ترجمہ ٹیکس نہایت مناسب ہے،آج کل عربی میں مال کے ٹیکس کو جمرك اور آدمی کے ٹیکس کو کوشان کہتے ہیں۔
۲؎ یہاں عشر سے مراد پیداوار کا دسواں حصہ اور خراج اور راستہ کی چونگی باہر سے آنے والے مال کا ٹیکس وغیرہ سب ہے،یہ تفسیر اس حدیث کے راوی محمد ابن اسحاق ابن مندہ کی ہے۔لفظ یعنی فرماکر انہوں نے فرمایا کہ صاحب مکس سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مراد عشر لینے والا ہے۔(مرقات)