| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں احمقوں کی سلطنت سے تم کو اﷲ کی پناہ میں دیتا ہوں ۲؎ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ وہ کیا چیز ہے۳؎ فرمایا کچھ سلاطین میرے بعد ہوں گے ۴؎ جو ان کے پاس گیا ان کے جھوٹ کو سچ کہا اور ظلم پر ان کی مدد کی تونہ وہ مجھ سے ہے اور نہ ہی میں ان سے ۵؎ اور وہ حوض پر میرے پاس ہرگز نہ پہنچیں گے ۶؎ اور جو ان کے پاس نہ گیا اور نہ سچ کہا ان کے جھوٹ کو اور نہ ان کی ظلم پر مدد کی تو وہ میرے ہی ہیں اور میں ان کا ہوں اور وہ حوض پر میرے پاس پہنچیں گے ۷؎(ترمذی،نسائی)
شرح
۱؎ عجرہ عین اور جیم کے پیش اور ر کے فتحہ سے ہے،آپ صحابی ہیں،انصار کے حلیف ہیں،بعض نے کہا انصار سے ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے۔آپ کے اسلام کا واقعہ یہ ہوا کہ آپ کا ایک بت تھا جس کی آپ پرستش کرتے تھے،حضرت عبادہ ابن صامت سے آپ کی بڑی پرانی دوستی تھی،ایک دن حضرت عبادہ ان سے ملنے گئے جب ان کے گھر سے نکلے تو چپکے سے اس بت کے ٹکڑے کر ڈالے جب آپ نے اپنے بت کی یہ حالت دیکھی تو قریب تھا کہ حضرت عبادہ سے الجھ پڑیں مگر دل سے آواز آئی کہ اے کعب اگر بت میں خدائی ہوتی تو اپنے کو بچالیتا،جو اپنی مدد خود نہ کرسکا وہ تیری مدد کیا کرے گا اسی وقت مسلمان ہوگئے۔(اشعہ)آخر میں کوفہ میں قیام رہا مگر مدینہ منورہ میں وفات پائی،پچھتر سال عمر ہوئی، ۵۱ھ میں وصال ہوا،مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔(مرقات) ۲؎ سفہاء جمع ہے سفیہ کی اور سفیہ بنا ہے سفہ سے بمعنی خفت و ہلکا پن،سفیہ کے معنے ہیں ہلکی عقل والا یعنی کم عقل یعنی تم کو اﷲ کی امان میں دیتا ہوں اس سے کہ تم پر احمق بادشاہوں کا داؤ چلے یا اس لیے کہ تم ان کی طرف مائل ہو۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ تم نا اہل بادشاہوں کا زمانہ پاؤ گے مگر ان شاءاﷲ ان کے شر سے محفوظ رہو گے،جسے حضور اپنے دامن میں چھپالیں اس کا کوئی کیا بگاڑے۔شعر ڈھونڈھا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی وہ کس کو ملے جو تیرے دامن میں چھپا ہو ۳؎ یعنی یہ سلطنت کیسے ہوگی،کیا کرے گی اور کب ہوگی اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ ۴؎ ظالم،جھوٹے،بے عقل جیسے یزید ابن معاویہ،حجاج ابن یوسف وغیرہم،اس میں حضرات خلفاء راشدین داخل نہیں ورنہ پھر حضرت علی بھی اسی وعید میں داخل ہوں گے جو آگے آرہی ہے خود حضرت کعب ابن عجرہ نے بھی یہ خلافتیں پائیں اور ان کی حمایت کی،بہرحال جو ہم نے عرض کیا وہ ہی درست ہے۔ ۵؎ یعنی وہ مجھ سے بےتعلق ہیں اور میں ان سے بیزار ہوں۔اﷲ کی پناہ!خیال رہے کہ ظلم پر مدد کرنے کی کئی صورتیں ہیں:ان ظالموں کو ظلم کی رغبت دینا،ان کے ظلمی قانون کو رائج کرنا،ان کے ظلم میں ان کا ہاتھ بٹانا،ان کے ظلم کی حمایت کرنا یہ کہنا کہ یہ احکام حق ہیں،غرضکہ اس میں بہت وسعت ہے۔کسی درزی نے حضرت سفیان ثوری سے پوچھا کہ ظالم حکام کے کپڑے سینا کیسا تو آپ نے فرمایا کہ جو ظالم سلطان کے کپڑے سینے کے لیے درزی کے ہاتھ سوئی فروخت کرے وہ اس آیۃ کریمہ میں داخل ہے "وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا"الایہ۔(مرقات) ۶؎ یعنی حوض کوثر پر جو جنت میں ہے یا اس کی نہر پر جو میدان محشر میں ہے جہاں حضور کی امت پانی پی کر حشر کی پیاس بجھائے گی مطلب یہ ہے کہ فائزین کے ساتھ نہ پہنچیں گے۔ ۷؎ خلاصہ یہ ہے کہ ان ظالموں سے قریب ہونا مجھ سے دور ہونا ہے اور ان سے دور ہونا مجھ سے قریب ہونا ہے۔حضرت عبداﷲ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو ظالم کے ظالمانہ حکم سے راضی ہو اگرچہ اس ظالم سے غائب ہو مگر وہ حاضر ہے اور آپ نے یہ ہی آیت پڑھی "وَلَا تَرْکَنُوۡۤ"الایہ۔ روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو بن باسی ہوا وہ سخت دل ہوگیا ۱؎ جو شکار کے پیچھے رہا وہ غافل ہوگیا ۲؎ جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنہ میں پڑا۳؎(احمد،ترمذی، نسائی)اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے جو بادشاہ سے چمٹ گیا۴؎ وہ فتنہ میں پڑگیا اور نہیں بڑھاتا کوئی بندہ بادشاہ سے قرب مگر بڑھا لیتا ہے اﷲ سے دوری ۵؎ ۱؎ یعنی دیہات کے باشندے اکثر سخت دل ہوتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلۡاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوۡا"۔کیونکہ انہیں علم کی روشنی علماء کی صحبت نہیں نصیب ہوتی لہذا خود عالم دین جو دیہات میں رہیں اور وہ دیہات والے جو علماء سے تعلق رکھیں اور شہر میں آجاتے رہیں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ ۲؎ یعنی جو شکار کا شغل اپنا وطیرہ بنالے کہ محض شوقیہ شکار کھیلتا رہے وہ اﷲ کے ذکر،نمازوجماعت جمعہ،رقت قلب سے محروم رہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی شکار نہ کیا۔(اشعہ)بعض صحابہ نے شکار کیا ہے مگر شکارکرنا اور ہے اور شکار کا مشغلہ وہ بھی محض شوقیہ کچھ اور شکار کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے یہاں مشغلہ شوقیہ کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث حکم قرآن کے خلاف نہیں۔ ۳؎ یعنی جو عزت و دولت کمانے کے لیے ظالم بادشاہ کا درباری اور حاضر باش بنا وہ اپنا دین یا دنیا تباہ کرلے گا کیونکہ اگر وہ اس کے ظلم کی حمایت کرے گا تو اپنا دین برباد کرلے گا اور اگر اس کی مخالفت کرے گا تو اپنی دنیا برباد کرلے گا لہذا جو کوئی عادل بادشاہ کا مصاحب بنے اس کے عدل کی حمایت کرنے تک میں دین کا رواج دینے کو اور اسے اچھے مشورے دے تو وہ اعلیٰ درجے کا مجاہد ہے،یوں ہی ظالم بادشاہ کی اصلاح کے لیے اس کے ساتھ رہے تو وہ غازی ہے مگر ایسا بہت مشکل ہے لہذا حضرت علی کو خلفاءراشدین کا مصاحب بننا اور حضرت امام ابو یوسف کا سلطان ہارون رشید کا قاضی القضاۃ بننا گناہ نہ تھا ثواب تھا،امام ابویوسف کی یہ قضاءحنفی مذہب کی اشاعت کا ذریعہ بنی۔ ۴؎ اس طرح کہ ہر وقت اس کے ساتھ رہا وہ امید نان اور خوف جان میں مبتلا۔ہوگیا حضرت عطار نے کیا خوب فرمایا۔ ع قرب سلطاں آتش سوزاں بود ۵؎ اس فرمان عالی کا مقصد بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ ظالم بادشاہ سے قرب رب تعالٰی سے دوری کا ذریعہ ہے اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل فرمایا من ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زاھدالم یزدد من اﷲ الا بعدا جو علم بڑھائے دنیا سے بے رغبت نہ ہو وہ اﷲ سے دوری میں ہی اضافہ کرے گا۔