Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
594 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر594
روایت ہے حضرت حارث اشعری ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جماعت کا۲؎  اور سننے و فرمانبرداری کرنے اورہجرت اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے کا ۳؎ جو جماعت سے ایک بالشت برابر نکل گیا اس نے اسلام کا پھندا اپنی گردن سے نکال دیا ۴؎ مگر یہ کہ لوٹ آئے ۵؎  اور جو جاہلیت کے بلاوے سے بلائے ۶؎ تو وہ دوزخ کی جماعتوں میں سے ہے ۷؎ اگرچہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے ۸؎(احمد،ترمذی)
شرح
۱؎  آپ حارث ابن حارث اشعری ہیں،شام میں قیام رہا اس لیے آپ کو شامی بھی کہا جاتا ہے،آپ صحابی ہیں اور آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث منقول ہے،ابو سلام حبشی کے استاذ ہیں۔

۲؎  کہ عقائدواعمال میں جماعت مسلمین کے ساتھ رہو جس چیز پر امت مسلمہ کا اجماع ہوجائے اس کا اتباع کرو اور سلف صالحین کی پیروی کرو۔(مرقات واشعہ)

۳؎ علماءواولیاء کی حق باتیں سنو ان کی اطاعت کرو اور حاکم اسلام کی اطاعت ہر جائز حکم میں کرو اور مکہ معظمہ سے مدینہ پاک کی طرف ہجرت کرو یا جہاں اسلامی آزادی نہ ہو کفار سے جہاد کبھی اور کسی کو نصیب ہوتا ہے مگر نفس سے جہاد ہر وقت ہر مسلمان کو کرنا پڑتا ہے۔(مرقات)رب تعالٰی فرماتاہے:"قٰتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الْکُفَّارِ"اپنے قریبی کافروں سے جہاد کرو سب سے قریبی کافر اپنا نفس ہے۔

۴؎  قِید قاف کے کسرہ ی کے جزم سے بمعنی قدروبرابر،شبرشین کے کسرہ ب کے سکون سے بمعنی بالشت، ربقہ ر کے فتحہ سے رسّی کا وہ پھندا جو بکری کے گلے میں ہوتا ہے۔(اشعہ و مرقات)یعنی جو عقائدواعمال سے تھوڑا سابھی جماعت مسلمین کے خلاف ہوجائے تو اس نے اسلام کے ذمہ اور رب کا عہد توڑ دیا۔

۵؎ یعنی اپنی بدعقیدگی سے توبہ کرے تو دروازۂ توبہ کھلا ہوا ہے۔

۶؎  جیسے اسلام سے پہلے کفار اپنی مدد کے لیے اپنے دشمن کے مقابل اپنے کنبہ یا قوم کو پکارتے تھے اور وہ قوم والے اس کی امداد کو بغیر سوچے سمجھے دوڑ پڑتے تھے خواہ وہ ظالم ہوتا یا مظلوم یعنی قومیت کی جنگ،آج کل ہم لوگوں میں صوبائی قومی ملکی تعصب بہت ہے،یہاں اس کی برائی بیان ہورہی ہے۔

۷؎  جثی جمع ہے جثوۃ کی جیم کے فتحہ یا کسرہ یا پیش سے جماعت و گروہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا"۔جثوۃ لغت میں ریت کے ڈھیر کو کہتے ہیں جہاں ذروں کا اجتماع ہو،پھر بڑی جماعت کو جثوہ کہنے لگے کہ اس میں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔

۸؎  معلوم ہوا کہ پختہ مسلمان ہونے کے لیے عبادات کے ساتھ درستی معاملات بھی ضروری ہے انسان کی جانچ معاملات سے ہوتی ہے۔
Flag Counter