Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
595 - 1040
حدیث نمبر595
روایت ہے حضرت زیاد ابن کسیب عدوی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں ابوبکرہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا ۲؎ وہ خطبہ پڑھ رہا تھا اور اس پر باریک کپڑے تھے تو ابوبلال نے کہا ۳؎ کہ امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہنتا ہے ۴؎ تو ابوبکرہ بولے چپ رہو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو زمین میں اﷲ کے بادشاہ کی توہین کرے اﷲ اسے ذلیل کرے ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎  آپ تابعی ہیں،مصری ہیں،ثقہ ہیں،کسیب کاف کے ضمہ سے ہے مصغر۔(اکمال)

۲؎  عبداﷲ ابن عامر ابن کر یز اُموی حضرت عثمان ابن عفان کے ماموں ہیں،حضور کی وفات کے وقت ان کی عمر تیرہ سال تھی،حضرت عثمان نے آپ کو بصرہ و خرسان کا حاکم مقرر کیا تھا۔

۳؎  غالبًا آپ ابوبردہ ابن سعد ابن ابوموسیٰ اشعری ہیں،آپ کے بیٹے کا نام بلال ہے،آپ بصرہ کے حاکم تھے۔

۴؎  یا تو کپڑے ریشمی تھے یا تھے تو سوتی مگر تھے باریک جیسے کہ عیش پسند مال داروں کا لباس ہے،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔

۵؎  سبحان اﷲ! کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ سلطان اسلام کے وقار سے اسلام کا وقار،مسلمانوں کا رعب،ملک کا انتظام ہے،جب اس کا وقار ہی ختم ہوگیا تو یہ سب کچھ ختم ہوگیا۔باریک کپڑے پہننا حرام نہیں مگر وقارِ سلطان بگاڑنا حرام ہے۔

حکایت: حضرت امام جعفر صادق ایک بار نہایت اعلیٰ جبہ پہنے تھے سفیان ثوری نے عرض کیا اے ابن رسول اﷲ یہ لباس آپ کے لیے موزوں نہیں تو آپ نے سفیان کا ہاتھ اپنی آستین میں ڈالا دیکھا کہ نیچے پشمینہ کا جبہ ہے فرمایا یہ اوپر کا لباس مخلوق کے لیے ہے اوریہ اندرونی لباس خالق کے لیے۔(مرقات)الناس باللباس آج کل اعلیٰ لباس ذریعہ عزت ہے۔

حکایت: فرقہ سنجی جو ٹاٹ کے کپڑے پہنتا تھا حضرت امام حسن کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نہایت اعلیٰ جوڑا پہنے تھے،وہ بنظر اعتراض آپ کے کپڑے چھونے لگا تو آپ نے فرمایا کیا دیکھتا ہے مجھ پر جنتیوں کا لباس ہے اور تجھ پر دوزخیوں کا لباس ہے،پھر فرمایا اکثر ٹاٹ پہننے والے دوزخی ہوں گے جن کے جسم پر ٹاٹ ہے دل میں تکبر ہے۔(مرقات)
Flag Counter