Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
593 - 1040
حدیث نمبر593
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر پہنچی کہ فارس والوں نے اپنا بادشاہ کسریٰ کی بیٹی کو بنالیا ۱؎ تو فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہ ہوگی(ہمیشہ ناکام نامراد رہے گی)جنہوں نے اپنے کام کا حاکم عورت کو بنایا ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ کسریٰ شاہ فارس کا لقب تھا،قصیر شاہ روم کا،عزیز شاہ مصر کا،تبع شاہ یمن کا،کسریٰ معرب ہے خسرو سے بمعنی بڑے ملک والا یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ شاہ فارس فوت ہوگیا تو فارسی لوگوں نے اس کی بیٹی کو بادشاہ بنالیا۔

۲؎ یعنی جس قوم کی سلطان یا حاکم عورت ہو وہ قوم ناکام نامراد رہے گی،یہاں اشعہ نے فرمایا کہ عورت ولایت اور امارت کے لائق نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ عورت امام یا قاضی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ عہدے کامل عقل اور آزادی چاہتے ہیں،عورت ناقص العقل بھی ہے اور گھر میں مقید بھی۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک جن چیزوں میں عورت کی گواہی درست ہے ان میں عورت کی قضاءبھی درست ہے۔قضاء سے مراد پنچ ہے نہ کہ حج یعنی عورت خاص شخصوں کی پنچ بن سکتی ہے وہ ناقص کہ جہاں اس کی گواہی درست نہیں وہاں وہ پنچ نہیں بن سکتی لہذا احناف کا یہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔۱۳۸۴ھ؁  یعنی ۱۹۶۵ء؁  کے جنوری کے پاکستانی صدر کے انتخاب میں اس حدیث کا معجزہ دیکھا گیا کہ یہاں تمام وہابی روافض وغیرہ بدمذہبوں نے ایک عورت کو صدرات پاکستان کے لیے کھڑا کیا اور ان تمام جماعتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا صرف اہل سنت اس کے خلاف رہے،اہل سنت کی دلیل یہ ہی حدیث تھی،اﷲ تعالٰی نے صرف اس حدیث پاک کی برکت سے اہل سنت کو فتح مبین عطا فرمائی کہ ملک عورت کی صدارت اور مخالفین ملک کی شرارت سے محفوظ رہا اور عورت کامیاب نہ ہوسکی۔

الحمدﷲ علی ذلك وصلی اﷲ تعالٰی علی حبیبہ صاحب اللواء المعقود و صاحب المقام المحمود والہ واصحابہ وسلم

بہرحال اسلام میں سلطان اور حاکم کے لیے مرد ہونا شرط ہے۔چنانچہ شرح عقائد نسفی ص۲۲۴ میں فرماتے ہیں کہ حاکم مسلمان آزاد عاقل بالغ اور مرد چاہیے عورتیں ناقص العقل بھی ہیں اور ناقص دین بھی۔ تفسیرات احمدیہ میں مولانا احمد جیون فرماتے ہیں کہ نبوت،خلافت امامت،اذان خطبہ مردوں کے لیے خاص ہے،بلقیس کا زمانہ سلیمان میں بادشاہ ہونا ایسا ہی تھا جیسے عیسائیوں میں ملکہ وکٹوریہ یا بلکہ الزبتھ بادشاہ ہوئیں،اسلام کے یہ خلاف ہے۔سرکار کے لن یفلح قوم فرمانے میں دو عجیب اشارے ہیں:ایک یہ کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ہوگی مگر عورت کو حاکم بنانے کی سزا دنیامیں بھی ملے گی آخرت میں بھی۔ دوسرے یہ کہ دوسرے گناہوں کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہوتا ہے کہ احکام اسلامی ان پر ہی جاری ہوتے ہیں مگر عورت کو سرداری دینے کی شامت ایسی ہے کہ کفاربھی اس کی زد میں آجاتے ہیں غرضکہ یہ جرم بہت سخت ہے۔
Flag Counter