۱؎ یا تو خلیفہ سے مراد حضرات انبیاء کرام ہی ہیں عطف تفسیری،رب تعالٰی نے آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:"اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً"اس سے مراد سلطان ہے۔
۲؎ بطانہ لغت میں استر کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"بَطَآئِنُہَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ"اس کا مقابل ظہارہ بمعنی ابرہ،اصطلاح میں اندرونی یار،دخیل کار،مشیر خاص کو بطانہ کہا جاتا ہے کہ وہ استر کی طرح اس سے ملا رہتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اچھے اور برے مشیر قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔
۳؎ یعنی برے مشیر سے ہم محض اپنی طاقت سے بچ نہیں سکتے ہیں،رب بچائے تو بچ سکتے ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اچھے مشیر سے مراد فرشتہ ہے اور برے مشیر سے مراد قرین شیطان۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ فضل کیا کہ حضور کا قرین مسلمان ہوگیا جیساکہ ترمذی وغیرہ کی روایات میں ہے۔اصطلاح شریعت میں معصوم صرف حضرات انبیاءکرام ہیں اور فرشتے بعض اولیاء محفوظ ہیں۔معصوم وہ جو گناہ نہ کرسکے محفوظ وہ جو گناہ نہ کرے،یہاں معصوم لغوی معنے میں ہے جو محفوظ کو بھی شامل ہے۔ہاروت و ماروت فرشتوں سے گناہ اس لیے ہوا کہ ان میں عارضی طور پر بشریت شامل کردی گئی تھی لہذا ان کے واقعہ سے فرشتوں کی عصمت پر اعتراض نہیں ہوسکتا،رب تعالٰی فرشتوں کے متعلق فرماتا ہے"لَا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ"۔اس کی نفیس تحقیق ہماری کتاب تفسیر نعیمی کلاں پارہ اول میں دیکھئے۔