Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
590 - 1040
حدیث نمبر590
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ انصاف والے حکام ۱؎  اﷲ کے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے ۲؎ رب کی داہنی طرف اور رب کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۳؎ وہ لوگ جو اپنے حکم میں اور اپنے بال بچوں میں اور جن کے حاکم ہوں ان میں انصاف کریں۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ مقسط باب افعال کا اسم فاعل ہے،اس کا مادہ قسط ہے بمعنی حصہ مگر اس میں لطف یہ ہے کہ مجرد  کا اسم فاعل قاسط بمعنی ظالم آتا ہے یعنی دوسروں کا حصہ ظلمًا لے لینے والا اور باب افعال کا اسم فاعل بمعنی عادل آتا ہے یعنی لوگوں کو انکا حصہ دینے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَمَّا الْقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا"بعض شارحین نے فرمایا کہ قسط بمعنی ظلم ہے باب افعال کا ہمزہ سلب کے لیے ہے لہذا اقساط کے معنے دفع ظلم مقسط بمعنی دفع ظلم کرنے والا یعنی عادل یا قاسط بنا قسوط بمعنی ظلم سے اور مقسط بنا ہے بمعنی انصاف سے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ"۔غرضکہ اس کلمہ میں عجیب خوبی ہے۔

۲؎ منابر جمع ہے منبر کی اور منبر اسم آلہ یا ظرف ہے منبر مصدر کا بمعنی اٹھانا اور چڑھانا،منبر چڑھانے اٹھانے کا آلہ یا اس کی جگہ۔محشر میں مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے کوئی مشک کے ٹیلوں پرکوئی نور کے منبروں پر۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں منبر اپنے حقیقی معنے میں ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔

۳؎ داہنا فرمانا صرف سمجھانے کے لیے ہے،بادشاہوں کے ہاں جسے عزت دیتے ہیں اسے سلطان کی داہنی طرف جگہ دیتے ہیں،قرب وعزت کے بیان کے لیے یمین فرمایا گیا اور ظاہری معنے سے براءت کے لیے ارشاد ہوا کہ اﷲ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی کی طرف یمین کی نسبت تو کی جاتی ہے مگر شمال میں بائیں کی نسبت نہیں کی جاتی کہ یمین بنا ہے یمن سے بمعنی برکت،شمال کی نسبت رب کی طرف بے ادبی ہے۔(ازمرقات)

۴؎ حکمہم سے مراد ہے سلطنت و حکومت و قضاء جس کا تعلق عام رعایا سے ہے اور اھلھم سے مراد اپنے  بال بچے نوکر چاکر ہیں جن کا تعلق گھر سے ہے اور ماولوا سے مراد وہ یتیم بیوگان وغیرہ ہیں جن کی پرورش اس کے ذمہ آن پڑی ہے۔غرضکہ سیاست مدنی اور تدبیر منزل سب میں عدل و انصاف کرتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ ماولوا میں خود اپنی ذات بھی داخل ہے یعنی اپنے متعلق بھی انصاف سے کام لیتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب کی امت کی تین قسمیں فرمائیں:ظالم،مقتصد اور سابق ،سابق وہ ہے جو اپنے اندر عدل و احسان دونوں جمع کرے۔
Flag Counter