۱؎ معقل میم کے فتحہ اور عین کے کسرہ سے،آپ شجرہ والے صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے حدیبیہ میں بیعت رضوان کی تھی،بصرہ میں قیام رہا،خواجہ حسن بصری آپ کے شاگرد ہیں۔(اشعہ)امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲؎ یہاں والی سے عام والی مراد ہے سلطان ہویا حاکم،استاذ ہو یا ماں باپ،مسلمان رعایا کا ذکر اتفاقی ہے ورنہ اپنے ماتحت کفار رعایا اور کفار نوکر چاکروں کا بھی حساب ہوگا کہ ان کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں۔
۳؎ غاش بنا ہے غش سے بمعنی ملاوٹ و کھوٹ،یہاں غاش سے مراد ہے ان کے حقوق نہ ادا کرنے والا اور یا ان پر حق سے زیادہ بوجھ ڈالنے والا۔(مرقات)اس میں بھاری ٹیکس وغیرہ سب داخل ہیں۔
۴؎ لہذا وہ نجات پانے والے مؤمنوں کے ساتھ جنت میں نہ جائے گا اور اگر ان جرموں کو حلال جانتا تھا تو کبھی جنت میں نہ جائے گا یا ایسے ظالم کے متعلق اندیشہ ہے کہ اس کا خاتمہ خراب ہو اور وہ دائمی دوزخی بن جائے،یہاں موت کا ذکر فرماکر یہ بتایا کہ مرتے دم تک توبہ کا اسے موقعہ ہے مگر جیسی خیانت ویسی توبہ۔