Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
585 - 1040
حدیث نمبر585
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے آگاہ رہو تم سب چرواہے ہو اور تم سب سے اپنے ماتحت چرنیوالوں کے متعلق سوال ہوگا ۱؎  چنانچہ وہ بادشاہ جو لوگوں پر حاکم ہے وہ چرواہا ہے اور اس سے اپنی رعیت کے متعلق سوال ہوگا ۲؎ اور مرد اپنے گھر والوں کا چرواہا ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال ہوگا اورعورت اپنے خاوند کے گھر اس کی اولاد کی نگران ہے اور وہ ان کے متعلق پوچھی جائے گی ۳؎ مرد کا غلام اپنے مولیٰ کے مال پر ذمہ دارنگران ہے وہ اس کے متعلق پوچھا جائے گا۴؎ خبردار تم سب چرواہے ہو اور تم سب سے اپنی رعیت کے متعلق سوال ہوگا ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی یہ نہ سمجھو کہ صرف بادشاہ سے ہی اس کی رعایا کا سوال ہوگا ہم آزاد رہیں گے،نہیں بلکہ ہرشخص سے اپنے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال ہوگا کہ تم نے ان کے دینی و دنیاوی حقوق ادا کیے یا نہیں۔راعی کے لغوی معنے ہیں چرواہا،اصطلاح میں ہر محافظ اور حاکم کو راعی کہہ دیتے ہیں کہ جیسے چرواہا ساری بکریوں کا ذمہ دارہوتا ہے کہ اگر ایک بکری بھی ضائع ہوگئی تو بکری والا اس سے مطالبہ کرتا ہے ایسے ہی رب تعالٰی اس سے ماتحت بندوں کے متعلق سوال فرمایئے گا"قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا"مثلًا والد سے سوال ہوگا کہ تم نے اپنی بیوی بچوں کو رزق کیوں نہ پہنچایا،یہ بھی سوال ہوگا کہ انہیں نیک کیوں نہ بنایا۔

۲؎ چونکہ سلطان کی حکومت وسیع ہے اس لیے اسکا حساب بھی وسیع ہوگا۔وزیر کے معنے ہیں بوجھ اٹھانے والا، وزر بوجھ کو کہتے ہیں،چونکہ اس پرتمام سلطنت کا بوجھ ہوتا ہے اس لیے اسے وزیر کہا جاتا ہے اسی لیے متقی لوگ حکومت،قضا اور سلطنت قبول نہ کرتے تھے۔

۳؎ یعنی مرد سے سوال ہوگا کہ تو نے اپنی بیوی بچوں کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں،جن کا خرچہ تیرے ذمہ تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں  اورعورت سے سوال ہوگا کہ تونے اپنے خاوند کی خدمت کی یا نہیں،خاوند کے مال اور اولاد کی خیر خواہی کی یا نہیں،بچوں کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے اس لیے ماں پر لازم ہے کہ انکی پرورش اور تربیت اچھی کرے،ماں فاطمہ زہرا جیسی پرہیزگار بنے تاکہ اس کی اولاد حسین جیسی ہونہارہو اسی لیے اچھی لڑکیوں سے نکاح کرنا اچھاہے کہ زمین اچھی ہو تو پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔شعر

بے ادب ماں باادب اولاد جن سکتی نہیں		معدن زر معدن فولاد بن سکتی نہیں

بتولے    باش  و   پنہاں      شوازیں        عصر		کہ    در     آغوش     شبیرے         بگیری

۴؎ کہ تو نے مولیٰ کے مال میں خیانت تو نہیں کی اور اس کی خیر خواہی کی یا نہیں۔

۵؎ یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ہرشخص خود اپنے نفس اور اپنے اعضاء کا راعی و ذمہ دار ہے کہ اس سے اپنے اوقات،اپنے حالات،اپنے خیالات،آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کیے،رب تعالٰی فرماتاہے: "مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ"انسان جوبات بھی منہ سے نکالتاہے اس کی بھی نگرانی ہوتی ہے۔شعر

عقل و ہوش و گوش نعتہائے عرش  		خرچ کردی وچہ آور دی ز فرش

غرضکہ ہر ایک سے اس کی ذمہ داریوں کو متعلق پُرشش ہوگی،اﷲ تعالٰی ہی ہم گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے پردے رکھے لغزشیں معاف کرے۔
Flag Counter