۱؎ اس حتّی میں دو احتمال ہیں:ایک یہ کہ تجدون کی انتہا ہو،دوسرے یہ کہ اشدکراھیۃ کی انتہا ہو لہذا اس فرمان عالی کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ بہترین شخص وہ ہے جو حکومت و سلطنت اختیارکرنے سے سخت متنفر ہو اور وہ شخص اس وقت تک بہتر رہے گا جب تک کہ اس سے متنفر رہے،جب اس نے حکومت قبول کرلی تو بہتر نہ رہے گا۔دوسرے یہ جو شخص اولًا حاکم بننے سے متنفر ہو بننا نہ چاہتا ہو پھر رب تعالٰی کی طرف سے اسے حاکم یا سلطان بننا پڑ جائے تو پھر متنفر نہ رہے گا کیونکہ رب تعالٰی اس کی غیب سے مدد فرمائے گا مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں اسی پر شارحین زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔(لمعات و اشعہ)