Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
583 - 1040
حدیث نمبر583
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں مَیں اور میرے چچازاد بھائیوں میں سے دو شخص گئے تو ان دونوں میں سے ایک نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بعض ان چیزوں پر ہم کو حاکم بنائیے جن پر اﷲ نے آپ کو حاکم بنایا ۱؎ اور دوسرے نے بھی اسی طرح کہا تو فرمایا واﷲ ہم اس منصب پر کسی ایسے کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا طلب گار ہواور نہ اس کو جو اس پر حریص ہو۲؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا ہم اپنے عمل پر ایسے کو قائم نہیں کرتے جو اسے چاہے۳؎(مسلم ،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی نبوت تو حضور کے لیے خاص ہے کوئی اس کی تمنا کرسکتا ہی نہیں مگر اﷲ نے آپ کو سلطان بنایا ہے تو اپنی ماتحتی میں قاضی،حاکم کسی علاقہ کا امیر ہم کو بنادیجئے۔

۲؎ یہ سوال پورا نہ فرمانا عطاء سے منع نہیں بلکہ ان دونوں حضرات پر اور مخلوق خدا پر رحم و کرم ہے کیونکہ حکومت کے خواہشمند حکومت پاکر ظلم و ستم کرکے اپنا دین بگاڑ لیتے ہیں اور لوگوں کی دنیا برباد کرتے ہیں اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے کہ حکومت کی طلب کب بری ہے اور کب اچھی۔سوال سے مراد ہے منہ سے مانگنا اور حرص سے مراد ہے منہ سے تو نہ مانگنا مگر اس کی کوشش کرنا۔

۳؎ دنیا طلبی نفسانی خواہش کے لیے کیونکہ ایسے آدمی کی اﷲ تعالٰی مدد نہیں کرتا جس سے لوگوں پرظلم کرتا ہے۔
Flag Counter