| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں عرض کیا یا رسول اﷲ آپ مجھے حاکم کیوں نہیں بنادیتے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور انور نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا ۲؎ پھر فرمایا اے ابوذر تم کمزور ہو اور حکومت امانت ۳؎ اور وہ قیامت کے دن رسوائی ندامت ہے ۴؎ سوائے اس کے جو اسے حق سے لے اور وہ ذمہ داریاں پوری کرے جو اس میں ہیں ۵؎ اور ایک روایت میں ہے کہ ان سے فرمایا اے ابوذر میں تم کو ضعیف دیکھتا ہوں ۶؎ اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ۷؎ تم نہ تو دو شخصوں پر پنچ بننا اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۸؎ (مسلم)
شرح
۱؎ تاکہ مجھے عدل و انصاف کرنے کا ثواب ملے یہ ثواب بے شمار ہے آپ کی یہ گزارش حرص دنیا کی بنا پر نہ تھی بلکہ طلب اجر کے لیے تھی اور اس وقت تک طلب حکومت سے حضور نے منع نہ فرمایا تھا۔ ۲؎ از راہ شفقت و محبت تاکہ ان کو اس سے منع فرمادینے سے رنج نہ ہو۔ ۳؎ یعنی تم سیاستدان نہیں ہو عابد زاہد تارک الدنیا ہو اور حکومت کے لیے اسلامی سیاستدانی ضروری ہے،دیکھو رب تعالٰی نے عابد و زاہد فرشتوں کو خلیفہ نہ بنایا۔حکومت کو امانت فرما کر اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا:" اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ"الایہ۔ ۴؎ یعنی حکومت و سلطنت ظالم کے لیے رسوائی ہے اور عادل کے لیے ندامت و شرمندگی،وہ سوچے گا کہ میں نے حکومت کرنے کے اوقات عبادت میں کیوں نہ گزارے۔ ۵؎ یعنی حکومت و سلطنت عادل حاکم کے لیے بھی ندامت ہے مگر دو شرطوں سے ندامت نہیں بلکہ باعث کرامت ہے:ایک یہ کہ حق کے ساتھ حکومت اختیار کرے کہ دوسرے نااہل ہوں اور ملک و قوم و دین کو اس کی رہنمائی کی ضرورت ہو۔دوسرے یہ کہ حقوق رعایا ادا کرے اس کے لیے حکومت اﷲ تعالٰی کی رحمت ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ سات شخصوں کو عرش الٰہی کا سایہ ملے گا ان میں ایک عادل سلطان ہے،نیز فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نیک عادل بادشاہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔حضرت یوسف علیہ السلام ،اور حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سلطان بھی نبی تھے،ان کی سلطنت ان کے لیے درجات عالیہ کا ذریعہ ہے،یہ حدیث بڑی دلیل ہے کہ نااہل کو حکومت میں دخل دینا نہ چاہیے اگرچہ وہ کتنا ہی متقی ہو اﷲ تعالٰی حکام و سلاطین کو حضرات خلفاءراشدین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق د ے۔ ۶؎ یہ روایت بھی مسلم کی ہے۔دیکھنے سے مراد ہے معلوم کرلینا چونکہ حضور کا اندازہ ہمارے عین الیقین سے اعلیٰ ہے اس لیے اراك فرمایا ۔ ۷؎ یعنی اگر ہم ضعیف ہوتے تو ہم بھی حکومت و سلطنت اختیار نہ فرماتے،چونکہ ہم کو اﷲ تعالٰی نے قوت و طاقت دی ہے کہ نبوت و حکومت دین و دنیا دونوں کو سنبھال سکتے ہیں اس لیے ہم نے یہ قبول کی،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ ۸؎ یعنی اے ابوذر عام لوگوں پر حکومت تو بہت مشکل ہے تمہارے لیے تو ضروری ہے کہ تم دو شخصوں کے پنچ بھی نہ بنو بلکہ ایک یتیم کے مال کے متولی بھی نہ بنو کہ اس کی ذمہ داری بھی بہت ہے اور تم تارک الدنیا اﷲ والے ہو۔اس حدیث سے آج کل کے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ممبری وزارت صدارت کے لیے سر پھوڑے مرے جاتے ہیں۔