۱؎ اس میں خطاب سارے مسلمانوں سے ہے اور حرص سے مراد نفسا نی خواہش ہے حضور کی یہ پیشگوئی آج آنکھوں دیکھی جارہی ہے کہ مسلمان صدارت،وزارت،سفارت،ممبری کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔
۲؎ کیونکہ ایسے سلطان کے ذمہ ہزاروں کے حقوق و مظالم ہوتے ہیں جن کے حساب سے چھوٹنا آسان نہیں ہے۔
۳؎ سبحان اﷲ! کیسی نفیس عبارت ہے،سلطنت کو رعایا کی ماں قرار دیا گیا،ظالم سلطنت کو دودھ سے محروم کرنے والی ماں فرمایا گیا اور عادل سلطنت کو دودھ دینے والی سگی ماں قرار دیا گیا یعنی رعایا کو حقوق دینے والی سلطنت اچھی ہے اور محروم کرنے والی سلطنت بری۔