Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
580 - 1040
حدیث نمبر580
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ حکومت نہ مانگو ۲؎ کیونکہ اگر تم طلب سے حکومت دیئے گئے تو تم اس کے حوالے کردیئے جاؤ گے ۳؎ اور اگر تم بغیر طلب دیئے گئے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سمرہ سین کے فتحہ اور میم کے پیش سے،آپ فتح مکہ کے دن اسلام لائے،پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے بعد میں بصرہ میں رہے وہاں ہی     ۵۱ھ؁ میں انتقال ہوا۔(مرقات)خلافت عثمانی میں سجستان اور کابل،افغانستان آپ ہی نے فتح کیا۔(اشعہ)

۲؎ دنیاوی امارت و حکومت طلب کرنا ممنوع ہے مگر دینی امارت طلب کرنا عبادت ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم سے دعا کیا کرو کہ "وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا"خداوندا ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔خیال رہے کہ سلطنت حکومت نفسانی خواہش،دنیا وی مال،عزت کی لالچ سے طلب کرنا حرام ہے کہ ایسے طالب جاہ لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے ہیں مگر جب نااہل سلطان یا حاکم بن کر ملک کو بربادکررہے ہوں یا برباد کرنا چاہتے ہوں تو دین و ملک کی خدمت کے لیے حکومت چاہنا حاصل کرنا ضروری ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ مصر سے فرمایا تھا:"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ"لہذا یہ حدیث ان مذکورہ دونوں آیتوں کے خلاف نہیں کہ اس حدیث سے طمع دنیاوی کے لیے دنیاوی امارت چاہنے کی ممانعت ہے۔حضرت صدیق اکبر نے حضور کے پردہ فرمانے کے بعد بکوشش ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی تھی اور پھر امیربن کر دین و ملک کی خدمت کی جس سے دنیا خبردار ہے،آج تک اسلام و قرآن کی بقا حضرت صدیق کی مرہون منت ہے۔

۳؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ طلب سے مراد کوشش اور رب سے دعا دونوں ہیں جو دعائیں مانگ مانگ کر طمع مال و عزت کے لیے سلطان بنا تو رب تعالٰی اس کی مدد نہ کرے گا وہ جانے اور حکومت جانے۔

۴؎ یعنی اگر رب کی طرف سے تم کو سلطان بننا پڑگیا تو رحمت الٰہی تمہاری دستگیری کرے گی تمہارے فیصلے درست ہوں،گے ملک کا بوجھ تم سے اٹھ سکے گا،سلطنت کرنا آسان کام نہیں بغیر کرم پروردگار یہ بوجھ نہیں اٹھ سکتا۔اس حدیث کی بنا پر بزرگان دین حاکم بننے سے سخت متنفر تھے،امام ابوحنیفہ نے جان دے دی مگر قضاء قبول نہ کی۔
Flag Counter