Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
579 - 1040
حدیث نمبر579
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی بادشاہ سے بیعت ۱؎ کرے پھر اسے اپنے ہاتھ کا عقد ۲؎ اور اپنے دل کا میوہ دے دے ۳؎ تو اگر طاقت رکھے اس کی اطاعت کرے ۴؎ پھر اگر دوسرا اس سے جھگڑا کرتا آئے تو دوسرے کی گردن مار دو ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ امام سے مراد دنیاوی امام بھی ہوسکتاہےیعنی سلطان اسلام اور دینی امام بھی،جیسے امام مجتہد اور شیخ طریقت، پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔

۲؎ صفقۃ بنا ہے صفق سے بمعنی ہاتھ ملانا اسی لیے تالی بجانے کو تصفیق کہتے ہیں کہ اس میں ہاتھ سے ہاتھ ملتا ہے،چونکہ مشائخ یا سلطان کی بیعت کے وقت شیخ یا سلطان کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جاتا ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے صفقۃ یدہ ارشاد فرمایا،عرف میں جب کسی سے کوئی پختہ وعدہ کرتے ہیں تو ہاتھ ملا کر کرتے ہیں کہتے ہیں آؤ ہاتھ ملاؤ یہ کام ضرور کرنا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیۡدِیۡہِمْ" مگر یہ بیعت مردوں کے لیے ہے عورتوں سے بیعت صرف کلام سے چاہیے۔

۳؎ یعنی دل کا اخلاص اسے دے کہ دل سے اس کی بیعت کرے یا دل کے میوے سے مراد اولاد ہے یعنی اپنے بال بچوں سے بھی اس امام کی بیعت کرائے۔(مرقات)

۴؎ یعنی اس کے ہر جائز حکم کی بھی بقدر طاقت تعمیل کرے۔

۵؎ یعنی اس دوسرے خواہش مند امامت کو خود یہ بیعت کرنے والے لوگ قتل کردیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ایک کے ہوکر رہو۔خیال رہے کہ آج کل جس جمہوریت کا رواج ہے کہ ہر پانچ سال کے بعد ملک کا نیا صدر چنا جائے،یہ عیسائیت کی جمہوریت ہے۔اسلام میں جمہوریت کے معنے یہ ہیں کہ ایک بار سلطان لوگوں کی رائے سے چن لیا جائے پھر وہ زندگی بھر سلطان رہے جب تک کہ اس سلطان میں معزولیت کا سبب نہ پیدا ہو تب تک وہ اپنے مقام پر قائم رہے۔چنانچہ حضرات خلفاء راشدین کا چناؤ ایک ایک بار ہوا ہر پانچ سال پر نہ ہوا۔ موجودہ جمہوریت بڑے فسادات کا ذریعہ ہے کہ ہر پانچ سال میں ملک میں زبردست انقلاب آتا ہے،پھر خرابی یہ ہوتی ہے کہ حکام تو وزراء اور صدر کے ماتحت اور صدر اور وزراء ممبران کے ماتحت اور ممبران ووٹروں کے ماتحت لہذا جس کے قبضہ میں کچھ ووٹ ہیں اسے ممبران دیتے ہیں بلکہ وزراءوصدر تک دیتے ہیں کہ آگے چل کر ان سے پھر ووٹ لینے ہیں،اس بنا پر یہ چودھری لوگ وہ وہ ظلم کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ،وہ سمجھتے ہیں کہ راج ہمارا ہے کہ ووٹ ہمارے قبضہ میں ہیں جیساکہ آج دیکھا جارہا ہے،یہ جمہورت خدا کی لعنت ہے اور یہ انتخاب خدا کا عذاب۔صحیح جمہوریت اور صحیح انتخاب اسلامی جمہوریت اور اسلامی انتخاب ہے،عیسائیت والے انتخاب میں بڑی آفت یہ ہے کہ ایک صدر ابھی رعایا پر پورا قبضہ بھی نہ کرسکا اس کی معزولیت کا وقت آجاتا ہے وہ ملک کی فکر کرے یا اپنی صدرات کی۔
Flag Counter