| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے اور ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس کے بچہ پیدا ہو تو چاہیے کہ اس کا نام اچھا رکھے ۱ ؎ اور اسے اچھی تعلیم دے ۲ ؎ پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردے ۳ ؎ اگر بچہ بالغ ہو گیا اور اس کا نکاح نہ کیا اس نے کوئی گناہ کرلیا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہے ۴؎
شرح
۱ ؎ کیونکہ اچھے نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے،اچھا نام وہ ہے جو بے معنی نہ ہو جیسے بدھوا،تلوا وغیرہ اور فخر و تکبر نہ پایاجائے جیسے بادشاہ،شہنشاہ وغیرہ اور نہ برے معنی ہوں جیسے عاصی وغیرہ۔بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام،اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل،عثمان،علی،حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ فاطمہ،عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اﷲ بخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی برکات دیکھے گا آج کل بہت واہیات نام رکھے جانے لگے ہیں،مثلًا نسیم اختر،ریحانہ،گلفام وغیرہ۔ ۲ ؎ بقدر ضرورت علم دین ضرور سکھائے دنیاوی علم و ہنر بھی اس قدر ضرور سکھائے کہ بچہ کسی کا محتاج نہ رہے۔ ۳ ؎ اس سے معلوم ہوا کہ بہتر یہ ہی ہے کہ نکاح بالغ ہونے پر کرے اگرچہ نابالغ بچے کا بھی نکاح درست ہے۔بالغ بچہ کے عادات وغیرہ معلوم ہوجاتے ہیں،نابالغ کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ کس خصلت اور کس قماش کا ہوگا۔(اشعہ) ۴ ؎ یہ اس صورت میں ہے کہ بچہ غریب ہو خود نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اور اگر باپ امیر ہو،اولاد کا نکاح کرسکتا ہے،مگر لاپرواہی یا امیر کی تلاش میں نکاح نہ کرے،تب بچہ کے گناہ کا وبال اس لاپرواہ باپ پر ہوگا۔(مرقات)کیونکہ باپ کی کوتاہی اس کے گناہ کا سبب ہے،خیال رہے کہ یہاں انما جبلی گناہ کے حصر کے لیے ہے نہ کہ کسبی گناہ کے حصر کے لیے یعنی ذریعہ گناہ بننے کا وبال صرف باپ پر ہوگا اگرچہ کسب گناہ کا وبال خود بچہ پر ہے۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو محض امیروں کی تلاش میں بچے کا نکاح عرصہ تک نہیں کرتے اس سے بدتر یہ ہے کہ اپنی کنواری جوان لڑکیوں کو اسکول و کالج میں اکیلے بھیج دیتے ہیں جس کے برے نتیجے آج آنکھوں کے سامنے ہیں۔