Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
57 - 1040
حدیث نمبر 57
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو ایک عورت دوسری عورت کا نکاح کرے ۱ ؎ اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے ۲؎  کیونکہ وہ عورت زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرے ۳ ؎ (ابن ماجہ)
شرح
۱ ؎ یعنی مرد ولی کے ہوتے ہوئے عورت لڑکی کی ولیہ نہیں وہ نکاح نہ کرائے لہذا باپ یا دادا یا بھائی یا چچا وغیرہم کے ہو تے ہوئے ماں خالہ وغیرہ ولیہ نہیں،بلکہ وہ لوگ ولی ہیں یا یہ حکم استحبابی ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ عورت لڑکی کا نکاح نہ کرے بلکہ اگر کوئی ولی نہ ہو تو حاکم وقت کی رائے سے نکاح کیا جائے ورنہ مرد ولی کے نہ ہونے پر ماں خالہ وغیرہ ولیہ ہوتی ہیں کہ نابالغہ کا نکاح ان کی اجازت سے درست ہے۔

۲؎ یعنی بغیر گواہ اکیلے میں نکاح نہ کرے یا غیر کفو میں نکاح نہ کرے ورنہ نکاح منعقد نہ ہوگا،اس پر فتویٰ ہے دیکھو درمختار۔یہ مطلب نہیں کہ بالغہ بغیر ولی کے نکاح نہیں کرسکتی،ورنہ وہ خرابیاں لازم ہوں گی جو پہلے عرض کی گئیں۔

۳ ؎یعنی جو عورت بغیر گواہ یا اولیاء کے ناراض ہونے پر غیر کفو میں نکاح کرلے وہ نکاح درست نہ ہوگا اور صحبت حلال نہ ہوگی۔
Flag Counter