۱ ؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم توریت و انجیل سے ان کے احکام سے خبردار ہیں،اگرچہ ان کتب کی زبان عبرانی ہے اور حضور عربی، کیوں نہ واقف ہوں حضور تو جانوروں فرشتوں کی زبانیں بھی جان لیتے ہیں۔
۲ ؎ یعنی کفو ملتا ہو اور یہ شخص نکاح کردینے پر قادر ہو پھر بھی محض دولتمند کی تلاش میں لاپرواہی سے نکاح نہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رب توفیق دے تو لڑکی کا نکاح بارہ سال کی عمر سے پہلے ہی کردے اب تو پچیس تیس سال تک کی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں،نہ بی اے لاکھ پتی ملتا ہے نہ نکاح ہوتا ہے رب تعالٰی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے۔
۳ ؎ یعنی اس کا گناہ باپ پر بھی ہے کیونکہ وہ اس کا سبب بنا۔