Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
578 - 1040
حدیث نمبر578
روایت ہے حضرت عرفجہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ فتنہ اور فساد ہوں گے شرارتیں بدخوئیاں ہوں گی ۲؎ تو جو اس امت کا معاملہ جداکرنا چاہے حالانکہ امت متفق ہو تو اسے تلوار سے مار دو کوئی بھی ہو ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ عرفجہ ابن سعد ہیں،آپ سے آپ کے بیٹے طرفہ نے روایات لیں،آپ وہی عرفجہ ہیں جن کی ناک کٹ گئی تھی،جنگ کلاب میں تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا کر لگوائی تھی مگر وہ بدبودار ہوگئی تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو سونے کی ناک لگوا لینے کا حکم دیا،یہ واقعہ مشکوۃ شریف کتاب اللباس باب الخاتم میں آئے گا،آپ سے روایات بہت کم ہیں۔

۲؎ ھنات ھ کے فتح سے ہے جمع ھن کی بمعنی ناقابل ذکر چیزا سی لیے شرمگاہ کو ھن کہتے ہیں کہ وہ بھی ناقابل ذکر ہوتی ہے،یہاں اس سے مراد ناقابل ذکر فتنے فساد شرارتیں ہیں۔مکرر فرمانے سے معلوم ہوا کہ وہ فتنہ مسلسل اور دراز ہوں گے اور بہت سی قسم کے ہوں گے۔

۳؎ خواہ عربی ہو یا عجمی عالم ہو یا جاہل صوفی ہو یا پیر درویش،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد سے ہو یا کسی اور خاندان سے غرضکہ کوئی بھی ہو جب وہ میری امت میں تفریق کی کوشش کرے وہ مستحق قتل ہے۔(مرقات)اس حکم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو نئے مذاہب ایجاد کرکے مسلمانوں کے ٹکڑے کر دینا چاہیں اور جیسے ایک خلیفہ کی اطاعت چاہیے ایسے ہی ایک امام کی تقلید چاہیے۔
Flag Counter