۱؎ قتل سے مراد مقاتلہ یعنی جنگ کرنا ہے اور ہوسکتا ہے کہ قتل ہی مراد ہو کیونکہ دوسرے خلیفہ باغی ہے خلیفہ نہیں،اس کے متعلق قرآن کریم کا فرمان ہے"فَقٰتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"۔یہاں مرقات نے بحوالہ نووی فرمایا کہ دارالاسلام وسیع ہو یا غیر وسیع،مسلمانوں کے خلیفہ بیک وقت خلیفہ دو نہیں ہوسکتے،مشرق و مغرب،جنوب و شمال کا خلیفۃ المسلمین ایک ہی ہوگا۔امام الحرمین نے اپنی کتاب الارشاد میں فرمایا دور دراز ممالک میں دو خلیفہ ہوسکتے ہیں۔(جیسے آج پاکستان و امریکہ)مگر امام نووی نے اس قول کی بہت مخالفت فرمائی اور فرمایا کہ امام الحرمین کا یہ قول اطلاق حدیث کے بھی خلاف ہے اور سلف و خلف علماء کے بھی خلاف۔