| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیاء کرام کرتے تھے ۱؎ جب کبھی ایک نبی انتقال فرماتے تو دوسرے نبی ان کے پیچھے تشریف لاتے ۲؎ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۳؎ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے ۴؎ صحابہ نے عرض کیا تو ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں ۵؎ فرمایا اگلے پھر اگلے کی بیعت پوری کرو۶؎ اور انہیں ان کا حق دو کیونکہ اﷲ تعالٰی ان سے خود پوچھ لے گا ان کے متعلق جن کو ان کی رعایا بنایا۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ تسوس بنا ہے سیاست سے بمعنی ملکی و قومی انتظام جس میں دینی انتظام بھی داخل ہے یعنی بنی اسرائیل میں خود حضرات انبیاء کرام سارے قومی ملکی ملی دینی انتظام فرمایا کرتے تھے،ان کے جانشین امراء و خلفاء نہ ہوتے تھے بلکہ حضرات انبیاء کے خلفاء خود انبیاء ہوتے تھے،موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون سے فرمایا تھا اخلفنی من بعدی۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت اسلامیہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے شروع ہوئی،اسلامی سلاطین کی بیعت اور حضرات مشائخ کرام کی مریدی اسلام کی خصوصیات سے ہے،پہلے شریعت و ملک کی حفاظت حضرات انبیاءکرام سے ہوتی تھی۔ ۳؎ یعنی نہ تو میرے زمانہ میں کوئی نبی ہے جو میری موجودگی میں میرا خلیفہ ہو جیسے ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں کچھ روز کے لیے عارضی خلیفہ ہوئے جب موسیٰ علیہ السلام توریت لینے طور پر تشریف لے گئے اور نہ میرے بعد کوئی نبی ہے جو میرا مستقل خلیفہ ہو لہذا میرے خلفاء میرے دین کے سلاطین ہیں اور باطنی خلفاءحضرات اولیاءوعلماء۔خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضور کے بعد نبی نہیں وہ تو پہلے کے نبی ہیں اور اب بشان نبوت تشریف نہ لائیں گے بلکہ حضور کے امتی ہوکر اور خلیفہ امام مہدی ہی ہوں گے۔ ۴؎ یہاں خلفاء سے مراد ظاہری خلفاء ہیں یعنی اسلامی سلاطین و امراءخلفاء،خلافت تو قریش کے ساتھ خاص ہے اور سلطنت عام ہے،خلافت میں حکومت کے ساتھ نیابت مصطفوی بھی ہوتی ہے،سلطنت میں صرف حکومت ہے اسی لیے خلفاء راشدین کے زمانہ میں مشائخ سے بیعت نہ کی جاتی وہ خلفاء راشدین مشائخ بھی تھے انکی بیعت بیعت ارادت بھی ہوتی تھی اور بیعت حکومت بھی۔ ۵؎ یعنی اگر بہت سے خلیفہ بن جائیں تو ہم کیا کریں کس کی بیعت کریں۔ ۶؎ یعنی یکے بعد دیگرے خلفاء کی بیعت کرنا جب پہلا خلیفہ فوت ہوجائے تو اب جو خلیفہ بنے اس کی اطاعت کرو بیک وقت دو خلیفہ نہیں ہوسکتے،اگر ہوں تو پہلا خلیفہ ہوگا دوسرا باغی۔چنانچہ خلافت حیدری میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے اور حضرت امیر معاویہ باغی،جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے حق میں خلافت سے دست برداری فرمالی تب وہ سلطان برحق ہوئے۔خیال رہے کہ بیک زمانہ مختلف ملکوں کے بادشاہ بہت ہوسکتے ہیں مگر تمام مسلمانوں کا خلیفہ ایک ہی ہوگا۔آج پاکستان،ترکی،کابل،ایران اور پاکستان کے صدر یا بادشاہ الگ الگ ہیں مگر ان میں خلیفۃ المسلمین کوئی نہیں،امام مہدی تمام مسلمانوں کے خلیفۃ المسلمین ہونگے۔اس حدیث کی بنا پرصوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں دو پیروں کا مرید نہیں ہوسکتا۔