۱؎ اس حدیث میں دلیل سے مراد بندے کے ایمان و تقویٰ کی دلیل و ثبوت ہے اور بیعت سے اگر خلیفہ و سلطان اسلام کی بیعت مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب خلیفہ رسول یا سلطان اسلام موجود ہو پھر یہ اس کی بیعت خلافت نہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور اگر بیعت سے عام بیعت مراد ہے خواہ بیعت خلافت ہو یا بیعت ارادہ تو حدیث مطلق ہے کہ جو بغیر مرشد پکڑے مرجائے اس کی موت کفار کی سی ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے،یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ بیعت بہت قسم کی ہے:بیعت اسلام،بیعت اطاعت اور بیعت ارادت۔