Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
574 - 1040
حدیث نمبر574
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں سلمہ ابن یزید ۱؎ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا یا نبی اﷲ فرمایئے تو اگر ہم پر ایسے حکام قائم ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق ہم سے روکیں تو حضور ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ۲؎ فرمایا سنو اور اطاعت کرو ۳؎ کیونکہ ان پر وہی ہے جو ان پر ڈالا گیا اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالا گیا ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ بعض شارحین نے ان کا نام یزید ابن سلمہ کہا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ سلمہ ابن یزید ہیں صحابی ہیں،کوفہ میں قیام پذیر رہے ۔

۲؎ یعنی ایسے بادشاہوں کی ہم بغاوت کریں یا نہیں۔

۳؎ یعنی قولا ً سنو اور عملًا ان کی اطاعت کرو یا ظاہرًا سنو اور باطنًا ان کی اطاعت کرو۔( مرقات)خلاصہ یہ ہے کہ اپنے حقوق کے لیے ملک کو ویران نہ کرو،بغاوت سے ملک کی ویرانی ہوتی ہے،قوم پر اشخاص قربان ہونے چاہیے اور دین پر تن من دھن فدا ہونے لازم ہیں۔

۴؎ یعنی ان بادشاہوں اور حکام پر شرعًا عدل و انصاف رعایا پروری ادائے حقوق واجب ہے اور رعایا پر ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ان سے ان کی ذمہ داریوں کا سوال ہوگا اورتم سے تمہاری ذمہ داریوں کا حساب ہوگا،اگر وہ اپنے فرائض کی ادا میں کوتاہی کرتے ہیں تو تم اپنے فرائض میں کوتاہی کیوں کرو تم کو اپنی قبر میں سونا ہے ان کو اپنی قبر میں سونا۔علیہم اور علیکم کے مقدم فرمانے سے حصر کا فائدہ حاصل ہوا۔سبحان اﷲ! کیسا ایمان افروز فرمان ہے کہ اپنے حقوق کی فکرکرو دوسروں کی فکر چھوڑو۔
Flag Counter