| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم پر کچھ حکام ہوں گے جن کے کچھ کام تم پسندکرو گے کچھ ناپسند کرو گے ۱؎ تو جو انکار کرے تو وہ بری ہوگیا اور جو ناپسند کرے وہ سلامت رہا۲؎ لیکن جو راضی ہوا ان کے ساتھ مل گیا ۳؎ انہوں نے عرض کیا تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ۴؎ فرمایا جب تک نمازی رہیں جب تک وہ نمازی رہیں ۵؎ یعنی جو اپنے دل سے انکار کرے جو اپنے دل سے ناپسند کرے ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی میں غیب کی خبرہے۔تعرفون اور تنکرون کا مفعول بہ پوشیدہ ہےیعنی بعض اعمالہم۔ مقصد یہ ہے کہ ان بادشاہوں اور حکام کے اعمال مخلوط ہوں گے کچھ اچھے کچھ برے کہ نماز بھی پڑھیں گے، داڑھی بھی منڈائیں گے،انصاف بھی کریں گے،شراب بھی پئیں گے۔ ۲؎ انکار سے مراد زبان سے انکارکردینا ہے اور بری ہونے سے مراد نفاق اور مداہنت یعنی پلپلا پن ہے،کرہ سے مراد دل سے ناپسندیدگی ہے سلامتی ہے مراد گناہ اور وبال فسق سے محفوظ رہنا ہے یعنی ایسے بادشاہوں کے بر ے اعمال کو زبان سے برا کہہ دینے والا پختہ مسلمان ہے اور ان کے اعمال کو صرف دل سے برا سمجھنے والا زبان سے خاموش رہنے والا پہلے کی طرح پختہ تو نہ ہوگا مگر گناہ سے وہ بھی بچ جائے گا۔ ۳؎ اس جملہ کی جزا پوشیدہ ہے یعنی جو شخص ان فاسق حکام کے برے کاموں سے دل سے راضی ہوا اور عمل میں ان کے ساتھ شریک ہوگیا کہ وہ بھی ان کے سے کام کرنے لگا تو وہ بھی گناہ فسق و فجوروبال میں انکے ساتھ شریک ہوگیا۔ ۴؎ یعنی ان بادشاہوں حاکموں کو ہاتھ سے اور بذریعہ قوت و طاقت گناہوں سے نہ روکیں جو کہ تبلیغ کی اعلی قسم ہے۔ ۵؎ نمازی رہنے سے مراد ہے مسلمان رہنا کیونکہ نماز ہی کفرواسلام میں فارق ہے لہذا یہ مطلب نہیں کہ بے نمازی بادشاہ حکام کی بغاوت درست ہے دوسرے گناہوں کی طرح ترک نماز بھی ایک گناہ ہے۔قرآن کریم دوزخی کفار کا ایک قول نقل فرماتا ہے جو وہ فرشتوں سے کہیں گے"لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ"ہم نمازیوں میں سے نہ تھے یعنی مسلمان نہ تھے۔خیال رہے کہ سلطان کی بغاوت بڑے فتنوں ،خون ریزیوں،ملک کی تباہیوں کا باعث ہے اس لیے بڑے اہتمام کے ساتھ اس سے روکا گیا۔ ۶؎ یہ کلام راوی کی طرف سے حدیث کے اس جملہ من انکر کی تفسیر ہے۔مقصد یہ ہے کہ انکار سے مراد صرف زبان کا انکار نہیں بلکہ دل کی نفرت بھی ضروری ہے کیونکہ دلی کراہت کے بغیر صرف زبانی انکار بیکار ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کھلا معجزہ ہے کہ جیسا انہوں نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا خود حضرات صحابہ نے فاسق بادشاہ ظالم و بدکار حکام دیکھ لیے۔