| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا کہ تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں ۱؎ اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں کہ تم ان سے نفرت کرو وہ تم سے نفرت کریں تم ان پر پھٹکارکرو۲؎ وہ تم پر لعنت کریں فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا ہم اس وقت ان کو پھینک دیں۳؎ فرمایا نہیں جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کریں۴؎ نہیں جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کریں، خبردار جس پر کوئی امیر والی ہو پھر اس میں اﷲ کے گناہوں میں سے کچھ دیکھے تو جو کچھ وہ اﷲ کا گناہ کرتا ہے اسے تو ناپسندکرے ۵؎ اور اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں آئمہ سے مراد والی ہیں خواہ سلطان ہو یا حکام۔(مرقات)مطلب یہ ہے کہ حکام عادل ہوں تم سے مل جل کر رہیں،تمہاری ان کی آپس میں محبت ہو،تمہارے ساتھ نمازوں میں شریک ہوں ایسے حکام اﷲ کی رحمت ہیں جیسے عہد صحابہ میں ہوتا تھا اور بعد میں بھی عادل سلاطین میں رہا۔ ۲؎ یعنی ظالم ہوں متکبر ہوں،اپنے عیش و طرب میں رہیں،ملک و رعایا سے لاپرواہ رہیں فساق وفجار ہوں ایسے حکام خدا کا عذاب ہیں۔ ۳؎ یعنی کیا ہم ان کو حکومت سے نکال باہر نہ کردیں اور ان سے کی ہوئی بیعت توڑ کر ان سے جنگ نہ کریں۔ ۴؎ یعنی جب تک سلاطین و حکام مسلمانوں میں جمعہ وعیدین قائم کریں،مسجدوں کا انتظام کریں،نمازوں کا اہتمام کریں تب تک تم ان کو علیحدہ نہ کرو ان کی بیعت نہ توڑو کیونکہ نمازیں قائم کرنا مؤمن ہونے کی علامت ہے،جو نمازیں قائم کرتا ہے وہ دین کا ضرور خیال رکھے گا،اس میں نماز کی اہمیت کا اظہار ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ"۔ ۵؎ اس طرح کہ اگر طاقت ہو تو زبان سے بادشاہ کو نصیحت کرے ورنہ اس کی حرکتوں کو دل سے برا جانے اس کی حمایت نہ کرے۔ ۶؎ یعنی سلطان یا حکام کی معصیت کی وجہ سے ان کی بغاوت نہ کرے ان سے لڑے نہیں کہ مسلمانوں کی خون ریزی بڑے سے بڑا گناہ ہے ہاں ان کی معصیتوں کی حمایت نہ کرے۔