Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
570 - 1040
حدیث نمبر570
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو فرمانبرداری سے نکلا اور جماعت سے جدا ہوا ۱؎ پھر مر گیا تو وہ جہالت کی موت مرا ۲؎ اور جس نے اندھا دھند جھنڈے کے نیچے جنگ کی۳؎ کہ غصہ کرتا ہے تعصب کی بنا پر یا غصہ کرتا ہے تعصب کی طرف یا مدد دیتا ہے عصبیت کی بنا پر ۴؎ پھر وہ مارا گیا تو اس کی موت جاہلیت کی ہے ۵؎ اور جو میری امت پرتلوار لے کر مارتا ہو نیک کار کو بھی بدکار کو بھی ۶؎ اور نہ بچے امت کے مومنوں سے اور نہ پورا کرے عہد والے کے لیے اس کا عہدوپیمان ۷؎ پس وہ نہ مجھ سے ہے نہ میں اس سے۸؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اطاعت سے مراد سلطان اسلام کی فرمانبرداری ہے اور جماعت سے مراد جماعت مسلمین ہے،جماعت سے جدا ہونے کے معنے ہیں کہ جس کی حکومت پر مسلمان متفق ہوچکے ہیں اسے حاکم نہ مانے اپنے کو جماعت کے فیصلہ سے الگ رکھے،اس جملہ کے اور معنی بھی ہوسکتے ہیں جو کتاب الاعتصام میں مذکور ہوچکے۔

۲؎ اس کے معنی ابھی عرض کیے گئے کہ اس سے مراد کفر کی موت نہیں ہے بلکہ کفار کی سی موت ہے،کفر کی موت اور کفار کی سی موت میں بڑا فرق ہے۔

۳؎ عمیہ بروزن غنیہ بھی آتا ہے غین کے پیش نون کے سکون سے اور عمّیۃ بھی آتا ہے عین کے کسرہ میم کے شد اور کسرہ سے ی  کے شد سے،یہ لفظ عمی سے بنا بمعنی اندھا پن اس سے مراد وہ بلوہ یا جنگ ہے جس کی وجہ معلوم نہ ہو،کوئی شخص صرف اپنی قوم اپنے دھڑے کی حمایت میں مسلمانوں کے دوسرے دھڑے سے لڑے جیسا کہ آج کل عام دیہاتی پارٹیوں میں دیکھا جاتا ہے۔

۴؎ عصبیۃ مفعول لہٗ ہے یغضب اور یدعو کا یعنی حق و باطل کی تمیز کیے بغیر خود بھی اس اندھا دھند لڑائی میں شریک ہوجاتا ہے اور اپنے دھڑے کے دوسرے آدمیوں کو بھی بلاکر جنگ میں شریک کرتا ہے،عصیبت کے معنی ہیں ظلم پر اپنی قوم کی مددکرنا عصبہ سے بنا بمعنی وارث یا قوم۔

۵؎ یعنی ایسی موت مسلمانوں کی سی نہیں کفار کی سی ہے کافر قوم،ملک،مال وغیرہ کے لیے لڑتے ہیں مگر مؤمن کی لڑائی صرف اﷲ کے لیے چاہیے یہ لڑائی بھی عبادت ہے۔

جنگ شاہاں فتنہ و غارتگری است	جنگ مؤمن سنت پیغمبری است

قومیت کی جنگ فساد ہے للہیت کی جنگ جہاد،اسلام نے ہم کو جینا مرنا سب کچھ سکھایا۔

۶؎ اس جملہ کی دو شرطیں ہیں:ایک یہ کہ امتی سے مراد امت اجابۃ یعنی مسلمان ہیں اور نیک سے مراد صالح آدمی ہیں اور فاجر سے مراد گنہگار مسلمان ہیں یعنی ہر نیک و بدمسلمان جو قتل کرے۔دوسرے یہ کہ امتی سے مراد امت دعوت ہے یعنی ہر آدمی کافر ہو یا مؤمن اور برّھا سے مراد مسلمان ہوں اور فاجرھا سے مراد کافر ہو،مرقات نے یہ دونوں شرحیں کیں۔

۷؎ اگر گزشتہ جملہ کی پہلی تفسیر کی جائے تو یہ علیٰحدہ مستقل حکم ہے اور اگر دوسری شرح کی جائے تو یہ جملہ اس کی شرح ہے،عہد والے سے مراد یا ذمی کفار ہیں یا مستامن کفار۔

۸؎ یعنی وہ میری امت سے نہیں یا میرے طریقہ سے نہیں اور میں اس کے معاون و مددگاروں سےنہیں یا وہ مجھ سے قریب نہیں میں اس سے قریب نہیں،یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے۔
Flag Counter