۱؎ یعنی اگر حاکم یا سلطان میں کوئی شرعی یا طبعی یا اخلاقی نقص دیکھے تو صرف اس وجہ سے اس پر خروج نہ کرے اور اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند نہ کرے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ احسن طریقہ سے اس کی اصلاح بھی نہ کرے۔جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہہ دینا تو اعلی درجہ کا جہاد ہے،اصلاح اور چیز ہے خروج کچھ اور۔
۲؎ یعنی جو مسلمانوں کی اس جماعت سے جو کسی سلطان اسلام پر متفق و متحد ہوں تھوڑا سا بھی الگ رہے گا اس کا انجام وہ ہوگا جو آگے مذکور ہے۔
۳؎ یعنی اس کی موت زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی سی موت ہوگی کہ نہ ان کا کوئی سلطان ہوتا تھا نہ جماعت نہ ان میں تنظیم تھی نہ قومی اتفاق۔(مرقات)اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کافر ہوگا۔خیال رہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے یزید پلیدکو سلطان اسلام بنانے کا مسئلہ تھا نہ کہ بنے ہوئے سلطان کی اطاعت کا مسئلہ لہذا اس عالی جناب کی ذات مقدس اس حدیث کی زد میں نہیں آسکتی،جیسے فاسق کو امام نماز بنانا مکروہ و ممنوع ہے مگر جس مسجد میں فاسق آدمی امام بن جائے تو اس کی وجہ سے جماعت نہ چھوڑے اس کے پیچھے پڑھے۔