Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
56 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 56
 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی ۱ ؎ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے ذکر کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا حالانکہ وہ ناپسند کرتی تھی۲ ؎ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دے دیا ۳؎(ابوداؤد)۴؎
شرح
۱ ؎ وہ لڑکی بالغہ تھی،جیسا کہ آئندہ مضمون سے معلوم ہوتا ہے بعض شارحین نے کہا کہ وہ خنساء بنت خذام تھیں جن کا واقعہ پہلے گزر چکا مگر یہ درست نہیں کہ وہ کنواری نہ تھیں۔یہ لڑکی کنواری ہے،بعض نے فرمایا کہ اس لڑکی کا نام والفہ ہے۔وا ﷲ اعلم

۲ ؎صورت یہ تھی کہ باپ نے اس لڑکی سے پوچھے بغیر نکاح کردیا لڑکی دل سے ناراض تھی بوقت نکاح لڑکی نے انکار نہ کیا تھا،ورنہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا اور لڑکی کو اختیار نہ ملتا لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

۳ ؎ یعنی وہ نکاح تیری رضا پر موقوف ہے اگر تو چاہے تو جائز رکھ اور چاہے فسخ کردے۔اس سے معلوم ہوا کہ بالغہ لڑکی پر باپ وغیرہ جبر نہیں کرسکتے اگر اس سے بغیر پوچھے نکاح کردیں گے تو نکاح فضولی ہو گا لڑکی جائز رکھے یا نہ،ہمارے ہاں اس اختیار کی وجہ لڑکی کا بلوغ تھا امام شافعی کے ہاں اس کا باکرہ یعنی کنواری ہونا۔

۴ ؎ یہ حدیث،احمد،نسائی،ابن ماجہ نے بھی نقل کی ابن قطان کہتے ہیں کہ حدیث صحیح ہے۔
Flag Counter