| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیعت کی ۱؎ سننے اور اطاعت کرنے پر تنگی اور آسانی میں خوشی و ناخوشی میں ۲؎ اور ہم پر ترجیح دیئے جانے میں۳؎ اور اس پر کہ کسی چیز میں اس کے اہل ومستحق سے نہ جھگڑیں۴؎ اور اس پر کہ ہم جہاں بھی ہوں حق ہی کہیں اﷲ تعالٰی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والی ملامت سے نہ ڈریں۵؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کسی چیز میں اس کے اہل سے نہ جھگڑیں مگر یہ ہےکہ تم کھلا کفر دیکھو ۶؎ جس کی تمہارے پاس اللہ کی طرف سے قوی دلیل ہو۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس بیعت سے مراد یا تو بیعت اسلام ہے یا کسی موقعہ پر کوئی خاص بیعت،حضرات صحابہ نے بیعت اسلام کے سواء خاص موقعوں پر اور بھی بیعتیں کی ہیں۔ ۲؎ یعنی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیعت میں یہ عہد کیا کہ ہم سلطانِ اسلام کی بہر حال اطاعت کرینگے زمانہ تنگی کا ہو یا فراخی کا وہ حکم ہم پرگراں ہو یا آسان۔عسر ویسر سے مراد حالات کی تنگی وآسانی مراد ہے اور منشط ومکرہ سے مراد اپنے دل کا حال ہے لہذا عبارت میں تکرار نہیں۔ ۳؎ اثرہ الف وث کے فتحہ سے بمعنی اختیارکرنا یا ترجیح دینا یعنی اگر اسلامی سلاطین ہمارے دنیاوی حقوق غنیمت،فئ کا حصہ یاحکومت کے عہدے ہم کو نہ دیں حق ہمارا ہو مگر دوسرےکو دے دیں یا خود مار لیں تو ہم ان کی اطاعت سے قدم باہر نہ نکالیں گے اس حق تلفی پر صبر کرینگے اور سلاطین کے مطیع رہیں گے۔اشعہ میں ہے کہ خلفائے راشدین کے بعد یہ واقعات پیش آئے،انصار نے پورے صبروتحمل سے کام لیا رضی اللہ عنھم اجمعین۔ ۴؎ یہاں امر سے مراد حکومت و امارت ہے یعنی ہم اہل حکومت سے نہ جھگڑا کرینگےتو یہ جملہ پہلے جملے کی تاکید ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو عہدہ اس کے اہل کو دیا جائے تو ہم اسے چھیننے کی کوشش نہ کریں گے۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافتِ اسلامیہ قریش سے خاص رہی،انصار نے حکم نبوی سن کر کہ الخلافۃ للقریش بالکل سرتابی نہ کی بلاچون و چرا حکم سرکاری قبول کرلیا،یہ تھا اس بیعت پر عمل۔ ۵؎ یہ گذشتہ عہدوں کے علاوہ اور دوسرا عہد ہے یعنی ہم مداہنت فی الدین نہ کرینگے ہر چھوٹے بڑے کے سامنے ہر جگہ ہر وقت سچی بات کہیں گے ہر مسلمان بقدر وسعت مبلغ ہے۔ ۶؎ کفر سے مراد کفار کے سے کام ہیں یعنی گناہ و معصیت،عام نسخوں میں بوّاہ واو سے ہے اور بعض نسخوں میں براہ ر سے ہے براہ کھلی زمین کو کہتےہیں۔ ۷؎ یعنی اگر تم اسلامی بادشاہ کا فسق و فجور کھلم کھلا دیکھو،ان کے احکام و افعال کی کوئی توجیہ نہ ہوسکے تو ان کی اطاعت نہ کرو مگر پھر بھی ان فاسق سلاطین پر خروج نہ کرے کہ ان سے لڑنا بھڑنا باجماعِ مسلمین حرام ہے۔اہل سنّت کا اس پر اتفاق ہے کہ بادشاہ فسق وظلم کی وجہ سے معزول نہ ہوگا،ہاں کافر سلطانِ اسلام نہیں بن سکتا،اگر مسلمان بادشاہ کافر ہوجائے تو معزول ہوگا کیونکہ سلطان کا معزول ہونا بڑی تباہی ملک و خوں ریزی کا باعث ہے۔(مرقات)حضرات صحابہ کرام نے حجاج ابن یوسف جیسےظالم وجابر و فاسق پر خروج نہ کیا بلکہ اس سے قضاء جمعہ و عیدین کی قیام حاصل کیں۔خیال رہے کہ امام شافعی کے ہاں فسق کی وجہ سے قاضی تو لائق معزولی ہے مگر سلطان قابلِ معزولی نہیں کیونکہ سلطان کی معزولی میں بہت فتنہ ہے جو قاضی کی معزولی میں کم ،مگر احناف کے ہاں نہ قاضی فسق کی وجہ سے لائق معزول ہے نہ سلطان کیونکہ احناف کے ہاں فاسق اہل ولایت ہے شوافع کے ہاں نہیں،دیکھو فاسق باپ اپنی اولاد کا ولی ہے،اس کی پوری بحث یہاں مرقات میں ملاحظہ فرمائیے۔