۱؎ یعنی اسے سابقین کے ساتھ جنت میں جانا حرام ہے یا جو ان کاموں کو حلال جان کر کرے وہ جنت سے دائمی محروم ہے کہ جنت تو مؤمنین کے لیے ہے۔
۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں خبیث سے مراد زنا ا ور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچوں کے زنا یا بے حیائی بے پردگی،اجنبی مردوں سے اختلاط،بازاروں میں زینت سے پھرنا،بے حیائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوجود قدرت کے نہ روکے وہ بے حیاء دیوث ہے مگر مرقات نے یہاں فرمایا کہ تمام بے غیرتی کے گناہ اس میں شا مل ہیں جیسے شراب نوشی،غسل جنابت نہ کرنا دیگر اس قسم کے جرم،اﷲ تعالٰی دینی غیرت دے۔