Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
556 - 1040
حدیث نمبر556
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت اور جہانوں کے لیے ہدایت بھیجا ۱؎ اور مجھے میرے عزت و جلال والے رب نے حکم دیا باجوں،بانسری،الغوزوں۲؎ اور بتوں اور صلیبوں اور جاہلیت کی چیزیں مٹانے کا ۳؎ اورمیرے رب عزوجل نے میری عزت کی قسم فرمائی کہ کوئی بندہ میرے بندوں میں ایک گھونٹ شراب نہ پئے گا مگر میں اتنی ہی پیپ اسے پلاؤں گا ۴؎  اور نہ چھوڑدے اسے میرے خوف سے مگر اسے پاک حوضوں سے پلاؤں گا ۵؎(احمد)
شرح
۱؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ظاہری رحمت کفار کو بھی پہنچی کہ وہ دنیاوی عذاب سے بچ گئے اور حضور کی باطنی رحمت یعنی ہدایت سے کفار نے فائدہ نہ اٹھایا،حضور کی رحمت فرشتوں جنات انسان بلکہ تمام مخلوقات کو ملی، اس کی نفیس تفسیر ہماری کتاب شان حبیب الرحمن میں ملاحظہ کیجئے۔

۲؎  معازف جمع ہے معزف کی جس کا مادہ عزف ہے بمعنی کھیل،معزف بروزن منبر کھیل کا آلہ ۔اصطلاح میں ہر باجہ کو معزف کہا جاتا ہے اور مزامیر جمع ہے مزمار کی جس کا مادہ زمر ہے بمعنی گانے کی آواز۔ اصطلاح میں بانسری الغوزہ وغیرہ کو مزامیر کہا جاتا ہے یعنی مجھے رب تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ ہر باجہ گانے کو مٹادوں۔خیال رہے کہ جھانج تو مطلقًا حرام ہے دوسرے باجے اگر غرض صحیح کے لیے استعمال کیے جائیں تو حلال ہیں،کھیل تماشہ کے لیے بجائے جائیں تو حرام۔چنانچہ غازیوں کا طبل جو جنگ وغیرہ میں اعلان کے لیے بجایا جائے یا دف تاشہ اعلان نکاح کے لیے حلال ہے،یوں ہی عیدوشادی کے موقعہ پر چھوٹی بچیوں کا دف بجانا احادیث میں آیا ہے اس کے احکام ان شاءاﷲ اپنے موقعہ پر آئیں گے۔

۳؎ صلب جمع ہے صلیب کی جس کا مادہ صلب ہے بمعنی صولی،صلیب صولی دینے کا آلہ،یہ عیسائیوں کی معظم چیز ہے جسے وہ پوجتے ہیں اور جاہلیت سے مراد زمانہ جاہلیت کی ناجائز رسمیں ہیں جیسے نوحہ،ماتم،خاندانی فخر،ستاروں سے بارش مانگنا۔خیال رہے کہ جزیرہ عرب میں سواء اسلام کے کسی ملت کی اجازت نہیں اس لیے عرب سے صلیب مٹائی جائے گی۔عرب کے سواء دوسرے اسلامی ممالک میں ذمی کفار کو مذہبی آزادی دی جائے گی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں،اسلام میں تو ذمی کفار کو مذہبی آزادی ہے پھر صلیب مٹانے کے کیا معنی کہ یہ حکم جزیرہ عرب کے لیے ہے یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں میں سے صلیب وغیرہ کو مٹاؤں کہ انہیں اس کی تعظیم سے دور رکھوں۔

۴؎ یعنی بعد قیامت دوزخ میں اسے دوزخیوں کی پیپ پلاؤں گا۔

۵؎ قدس کے حوض سے مراد جنت کے حوض ہیں جن میں حوض کوثر بھی داخل ہے یعنی جو شخص شراب کا عادی تھا پھر رحمت خدا نے دستگیری کی کہ محض خوف خدا کی بنا پر توبہ کرلی اسے ان حوضوں سے پلایا جائے گا ترک کے یہ معنی ہوتے ہیں،ممکن ہے کہ اس میں وہ بھی داخل ہو جو شرابیوں میں پھنس کر شراب سے بچے۔
Flag Counter