۱؎ سابقین کے ساتھ جو اولًا ہی جنت میں پہنچیں بغیر سزا اور بغیر رکاوٹ کے یا جو یہ جرم کرے انہیں حلال سمجھ کر وہ قطعًا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
۲؎ عاق وہ شخص ہے جو ایسا مباح کام کرے جس سے والدین کو تکلیف ہو بلاضرورت شرعی کرے اور انہیں دکھ پہنچانے کے لیے۔(مرقات)یہ قیود خیال میں رہیں لہذا اگر حاکم بیٹا مجرم ماں باپ پر شرعی سزا جاری کرے تو عاق نہیں اور اگر ماں باپ کو ستانے کے لیے شراب نوشی وغیرہ کرے تو وہ بدنصیب عاق سے بدتر ہے ظالم ہے۔
۳؎ منّان بنا ہے منّ سے منّ کے معنی احسان کرنا بھی ہیں احسان جتانا بھی اور توڑنا بندکرنا بھی اس تیسرے معنی میں ہے"وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیۡرَ مَمْنُوۡنٍ"منان رب تعالٰی کی صفت بمعنی بہت ہی احسان فرمانے والا کریم،یہاں دوسرے یا تیسرے معنی میں ہے یعنی احسان جتانے والا یا قاطع رحم قرابت داروں کے حقوق ادا نہ کرنے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی"۔
۴؎ کیونکہ حرامی بچہ جبلی طور پر بدکار بدمعاش ہوتا ہے کہ اس کی سرشت میں شیطان کا دخل ہوتا ہے اور کبھی بدکاری کرتے کرتے کفر تک پہنچ کر دائمی دوزخی ہوجاتا ہے۔(مرقات)اس لیے حرامی کی نسل میں ولایت نہیں ہوتی مگر خیال رہے کہ حرامی کے یہ احکام اسلام میں آجانے کے بعد ہیں،مشرکین و مجوسی کی اولاد حرامی نہیں اگرچہ ان کے نکاح شرعی قاعدے کے خلاف ہیں مگر چونکہ ان کے دین کے موافق ہیں لہذا صحیح ہیں،اگر مجوسی مسلمان ہوجائے اور اس کے نکاح میں اس کی ماں یا بہن یا بیٹی ہو تو اب علیٰحدہ کرا دیں گے،یوں ہی اگر مشرک کے نکاح میں سات آٹھ بیویاں ہوں تو بعد اسلام چار سے زیادہ بیویاں علیٰحدہ کرا دیں گے مگر ان کی گذشتہ اولاد حلال ہوگی،اس سے ولید ابن مغیرہ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا جسے قرآن کریم نے زنیم یعنی حرامی فرمایا۔اس حدیث میں زانی و زانیہ پر عتاب ہے کہ وہ زنا کرکے اپنے بچہ بلکہ اس کی نسل برباد کرتے ہیں۔