Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
554 - 1040
حدیث نمبر554
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے شراب اور جوئے طبلہ اور جوار کی شراب سے منع فرمایا ۱؎ اور فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۲؎ (ابوداؤد)۳؎
شرح
۱؎  میسر جوئے کو کہتے ہیں یسر بمعنی آسانی سے بنا،چونکہ جواری جیت کے بہ آسانی مال لے لیتا ہے اور ہارکر بہ آسانی دے دیتا ہے اسی لیے اسے میسر کہتے ہیں،کوبہ نرد،شطرنج،طبلہ و سِتار سب ہی کو کہتے ہیں،یہاں شارحین نے طبلہ کے معنی کئے ہیں۔غبیراء جوار کی شراب جو حبشہ میں مروج تھی جسے ان کی زبان میں مسکر کہتے تھے۔(اشعہ)

۲؎ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ ہر نشہ کی چیز سے نشہ لینا حرام ہے خواہ شراب تاڑی وغیرہ پتلی چیزیں ہوں یا بھنگ چرس افیون وغیرہ خشک چیزیں ہوں اگرچہ ان کے احکام میں تفصیل ہے مگر نشہ مطلقًا حرام ہے۔

۳؎ یہاں مصنف نے اپنا قاعدہ چھوڑ دیا،تینوں حدیثوں کے بعد فرمادیئے کہ ان تینوں حدیثوں کو ابوداؤد نے روایت کیا۔
۱؎  اقضیہ جمع ہے قضا کی،قضا کے لغوی معنے ہیں مضبوط کرنا اور فارغ ہونا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَقَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ"یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو مضبوط حکم دیا اور فرماتاہے:"وَلْیَقْضُوۡا تَفَثَہُمْ"اور اداء قرض کو قضائے دینی کہتے ہیں۔شریعت میں قضا وہ مقدمہ ہے جو حاکم کی کچہری میں فیصلہ کے لیے پیش کیا جائے یا خود فیصلہ،نیز بمعنی فیصلہ ہے۔شہادات جمع ہے شہادۃ کی،شہادت کے معنے ہیں حاضر ہونا،مشاہدہ کرنا آنکھ سے یا دل سے۔ شریعت میں کسی دوسرے کے حق کی کسی پر خبر دیناشہادت،دوسرے پر اپنے حق کی خبر دینا دعویٰ ہے،اپنے پر دوسرے کے حق کی خبر دینا اقرار ہے اور کسی کے کسی پر حق کی خبر دینا شہادت یعنی گواہی ہے،چونکہ حاکم کے فیصلے اور گواہوں کی گواہی بہت سی قسم کی ہوتی ہے اس لیے یہاں دونوں کو جمع فرمایا یعنی فیصلوں اور گواہیوں کا بیان۔
Flag Counter