| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت دیلم حمیری سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہم ایک ٹھنڈی زمین میں ہیں اور وہاں سخت کام کرتے ہیں۲؎ اور ہم اس گیہوں سے شراب بناتے ہیں جس سے اپنے اعمال پر اور اپنے ملک کی ٹھنڈک پرقوت حاصل کرتے ہیں۳؎ فرمایا کیا وہ نشہ دیتی ہے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا اس سے بچو۴؎ میں نے عرض کیا کہ لوگ اسے چھوڑیں گے نہیں ۵؎ فرمایا اگر نہ چھوڑیں تو ان سے جنگ کرو ۶؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ دیلم دال کے فتحہ لام کے کسرہ سے ہے،حمیر ح کے کسرہ میم کے سکون سے بروزن درہم،حمیر یمن کا ایک شہر ہے جو صنعاء سے غربی جانب واقع ہے۔ ۲؎ اس لیے ہم کو شراب اور نشہ کی سخت ضرورت ہے کہ ملک میں بغیر شراب کی گرمی اور بغیر نشہ کے بھاری کام نہیں ہوسکتے۔ ۳؎ لہذا ہم شراب پینے پر مجبور ہیں۔ ۴؎ کہ اسے مطلقًا استعمال نہ کرو نہ بحدنشہ نہ اس سے کم جیساکہ فاجتنبوہ کے اطلاق سے معلوم ہوا کیونکہ تھوڑی شراب بہت سی کا ذریعہ ہے۔ ۵؎ کیونکہ وہ پرانے عادی بھی ہیں اور اس کی انہیں ضرورت بھی ہے ملکی حالات کے لحاظ سے۔ ۶؎ یعنی اگر حلال سمجھ کر پئیں تو وہ مرتد ہوگئے ان پر جہاد کرو۔(مرقات)اور اگر حرام سمجھ کر پئیے جائیں تو ان پر سختی کرو مار پیٹ کر اس سے روکو۔لفظ قاتلوا مار پیٹ پربھی ارشاد ہوا ہے فرمایا کہ جو نمازی کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے روکو نہ رکے تو قاتلہ اسے مارکر روکو،یہاں سائل نے بہت کوشش سے سوال کیا مگر اجازت نہ ملی۔