Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
551 - 1040
حدیث نمبر551
روایت ہے حضرت انس سے وہ حضرت ابو طلحہ سے ۱؎ راوی انہوں نے عرض کیا یا نبی اﷲ میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی جو میری پرورش میں ہیں ۲؎ فرمایا شراب بہا دو مٹکے توڑ دو ۳؎ روایت کیا اسے ترمذی نے اور ضعیف کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان یتیموں کے بارے میں پوچھا جو شراب کے وارث ہوئے ہیں فرمایا اسے بہادو عرض کیا کہ کیا سرکہ نہ بنالیں فرمایا نہیں۴؎
شرح
۱؎ بارہا عرض کیا جاچکا ہے کہ حضرت ابو طلحہ جناب انس کے سوتیلے باپ ہیں،حضرت انس نے ان ہی کے ہاں پرورش پائی،دونوں باپ بیٹا بڑے مراتب کے مالک ہیں،فقیر نے انکی قبر مبارک کی زیارت کی ہے۔

۲؎ یعنی شراب کی حرمت سے پہلے میں نے بغرض تجارت ان یتیموں کے مال سے شراب خریدی تھی ابھی فروخت نہ کرچکا تھا کہ شراب حرام ہوگئی اب میں کیا کروں۔اس سوال کا مقصد بھی وہ ہی ہے جو ابھی اوپر کی حدیث میں عرض کیا گیا یعنی سرکہ بنالینے یا کفار کے ہاتھ فروخت کردینے کی اجازت حاصل کرنا۔

۳؎ شراب کے برتن توڑ دینے کا حکم ابتداءً تحریم میں تھا جب شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی تاکہ لوگ اس کے برتن دیکھ کر پھر شراب نہ پینے لگیں۔

۴؎ سرکہ بنانے کی ممانعت تنزیہی ہے یعنی شراب کا سرکہ بنانا مناسب نہیں۔(مرقات)یا یہ ممانعت شروع تحریم کے وقت کی ہے جب کہ شراب کے برتن توڑ دینے کا حکم بھی تھا اس کی تحقیق گزرچکی۔
Flag Counter