۱؎ کہ ہمارے گھر میں ایک یتیم پرورش پاتا تھا جس کا کوئی عزیز فوت ہوا اس کے مالوں کا یہ بچہ وارث ہوا ان مالوں میں شراب بھی تھی،چونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی اس لیے وہ بھی اس بچہ کو میراث ملی،ابھی اس بچہ کی ملک میں ہی تھی کہ شراب حرام ہوگئی اس کے ضائع کرنے کا حکم صادر ہوگیا۔
۲؎ جس میں آیت کریمہ آئی "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ"اور شراب قطعی حرام کردی گئی اور شراب کو نجس بھی فرمایا گیا اسے شیطانی کام قرار دیا گیا،اس سے بچنے کا حکم دیا گیا۔فاجتنبوہ اس بچنے پر فلاح و کامیابی کو موقوف فرمایا گیا کہ"لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ" اور شراب خوری کو جوئے،بت پرستی،تیروں سے فال کھولنے کی برابر قرار دیا گیا اور ظاہر ہے کہ ایسی خبیث چیز قریب جانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ اسے پینا یا گھر میں رکھنا۔
۳؎ سوال کا مقصد یہ تھا کہ اس شراب کے ضائع کرنے میں یتیم بچہ کا نقصان ہوگا اگر اجازت ہو تو س کا سرکہ بنالیں یا کفار کے ہاتھ فروخت کردیں،پینے کی اجازت مانگنا مقصود نہ تھا لہذا حدیث ظاہر ہے۔
۴؎ یعنی نہ اسے کفار کے ہاتھ فروخت کرو نہ اس کا سرکہ بناؤ بلکہ اسے بہادو کیونکہ یہ مال غیر متقوم ہے مسلمان اس کی تجارت بھی نہیں کرسکتا نہ کسی حیلہ سے اسے استعمال کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حرام چیز کو فنا کردینا چاہیے،اگرچہ وہ نابالغ بچہ کی ہوکہ یہ بھی ایک قسم کی عملی تبدیلی ہے اسی لیے ڈھول طبلہ سارنگی وغیرہ حرام آلات کی چوری پر سزا نہیں ان کے توڑنے پر ضمان نہیں کہ یہ چوری نہیں تبلیغ ہے۔