۱؎ کیونکہ تھوڑی شراب بہت شراب کا عادی بنادیتی ہے اس لیے تھوڑی سے بھی بچنا لازم ہے،یہ حدیث ظاہر معنی سے امام شافعی وغیرہم کے بھی خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں بھی افیون،چرس،بھنگ،جو دواؤں میں استعمال کی جائے اور نشہ نہ دے تو حرام نہیں،یہاں پتلی اور خشک کی قید نہیں لہذا اس کا وہ ہی مطلب ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ خمر یعنی شراب انگوری کا تو ایک قطرہ بھی حرام قطعی ہے اور دوسری شرابوں کا قطرہ بھی حرام ہے جب لذت یا طرب یا لہو کے لیے پئیے یا اس لیے حرام ہے کہ وہ زیادہ پینے کا ذریعہ ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،اس کی بحث ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے وہاں مطالعہ فرمایئے۔