Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
546 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر546
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے شراب پی تو اﷲ تعالٰی قبول نہ کرے گا اس کی چالیس دن کی نماز ۱؎ پھر اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول فرمائے گا۲؎ پھر اگر لوٹے تو اﷲ اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ اس کی توبہ قبول  کرلے گااگر پھر لوٹے تو اللہ اس کی چالیس دین کی نمازیں قبول نہ کرے گا ۳؎پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ اس کی توبہ قبول کرلے گا۴؎ اگر پھر چوتھی بار لوٹے تو اﷲ اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ اس کی توبہ قبول نہ کرے گا۵؎ اور اسے خبال کی نہر سے پلائے گا ۶؎ (ترمذی)           اور نسائی،ابن ماجہ،دارمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کی ۷؎
شرح
۱؎  صباح سے مراد دن ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت آدم کی مٹی چالیس صبح خمیر کی گئی  یعنی چالیس دن،بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد صبح کی نماز یعنی نماز فجر ہی ہے،حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شراب پی لے اور توبہ نہ کرے تو چالیس دن تک اس کی عبادت میں لذت حضور قلبی میسر نہ ہوگا جس کی وجہ سے وہ عبادات اگرچہ ادا تو ہوجائیں گی مگر قبول نہ ہوں گی نماز فرمایا گیا اور تمام عبادات مراد لی گئیں کہ نماز سب سے افضل عبادت ہے جب وہ ہی قبول نہ ہوئی تو دوسری عبادات بدرجہ اولیٰ قبول نہ ہوں گی کیونکہ شراب ام الخبائث ہے اور نماز ام العبادات جو ام الخبائث پئے گا وہ ام العبادات کی قبولیت سے محروم رہے گا بعض روایات میں ہے کہ جو شراب پیئے گا اس کے سینہ سے نور ایمانی نکل جائے گا۔(مرقات واشعہ و لمعات)

۲؎ توبہ کی حقیقت ہے گزشتہ پر ندامت،آئندہ کے لیے نہ کرنے کا عہد،اسی طرح شراب سے توبہ چاہیے کہ آئندہ اس کے قریب نہ جانے کا عہد کرے۔

۳؎ یعنی اگر توبہ کرتے وقت مکمل عہد کیا کہ اب کبھی نہ پئیوں گا پھر شیطان نے بہکادیا اور پی لی۔چالیس کا عدد اس لیے بیان ہوا کہ شراب کا اثر چالیس دن تک بدن میں رہتا ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ہر غذا اور پانی کا اثر جسم میں چالیس دن تک رہتا ہے جو کوئی چالیس دن اخلاص سے عبادت کرے تو اس کے دل و زبان سے حکمت کے چشمے بہنے لگتے ہیں جو حضور کی چالیس حدیثیں مسلمانوں تک پہنچائے اسے اﷲ تعالٰی محدثین و فقہاء کے زمرہ میں حشر نصیب فرمائے گا،موسیٰ علیہ السلام سے چالیس کا چلہ کرایا گیا،فرماتاہے:"وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوۡسٰۤی اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً"۔غرض چالیس کے عدد کی عبادات اور گناہوں میں عجیب تاثیر ہے۔(مرقات) چالیس عدد کے برکات ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھئے۔

 ۴؎ یعنی طاعت کے ساتھ توبہ کرے حق تعالٰی مغفرت کے ساتھ قبول فرمالے گا۔

۵؎ یعنی جو تین بار شراب سے توبہ کرکے توڑ دے تو اب اسے توبہ قبول کی توفیق نہ ملے گی،اب صرف زبان سے تو  توبہ کہے گا دل سے توبہ نہ کرسکے گا لہذا یہ توبہ قبول نہ ہوگی،یہ شراب نوشی کی نحوست ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جو ابو داؤد و ترمذی نے حضرت ابوبکر صدیق سے روایت کی کہ جو شخص دن میں ستر بار گناہ کرے اور ستر بار توبہ کرے تو وہ گناہ پر مصر نہیں کہ وہاں توبہ مقبول مراد ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ ازْدَادُوۡا کُفْرًا لَّمْ یَکُنِ اللہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہۡدِیَہُمْ سَبِیۡلًا"۔یہ حدیث اس آیت کریمہ کی اشارۃً شرح فرمارہی ہے،فقیر کی یہ تقریر خوب یاد کرلینی چاہیے۔

 ۶؎ خبال دوزخیوں کا خون و پیپ اس کثرت سے بہے گا کہ اس کی نہر بہہ جائے گی،شرابی سخت پیاسے اٹھیں گے پانی مانگیں گے تو انہیں بجائے پانی کے یہ دیا جائے گا جو انہیں شدت پیاس کی وجہ سے پینا پڑے گا۔                                                                  ۷؎ یعنی یہ حدیث ترمذی نے تو حضرت عبداﷲ ابن عمر ابن خطاب سے روایت کی اور نسائی ابن ماجہ،دارمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے روایت کی۔
Flag Counter