| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے جب شراب حرام کی گئی ۱؎ حالانکہ ہم شراب بہت تھوڑی ہی پاتے تھے ہماری عام شرابیں کچی کھجوروچھوہارے کی تھیں ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ شراب رب تعالٰی نے حرام فرمائی اس طرح کہ اس کی حرمت قرآن کریم میں نازل فرمائی اسی لیے حرم رسول اﷲ نہ فرمایا۔(مرقات) ۲؎ کیونکہ حجاز میں انگور بہت گراں تھے کھجور بہت سستی اس لیے وہاں شراب انگوری بڑی مہنگی پڑتی تھی جو امیر لوگ پی سکتے تھے عام لوگ کھجور کی شراب پیتے تھے۔خیال رہے کہ کھجور جب درخت میں نمودار ہوتی ہے تو طلع کہلاتی ہے کچھ بڑی ہونے پر خلال پھر ملح پھر کچی بُشر پختہ مگر تر رطب کہلاتی ہے،خشک ہوکر تمر یعنی چھوہارا۔(اشعہ)