۱؎ یہودی فرمانا بطور مثال ہے ورنہ او عیسائی او کافر کہنے کا بھی یہ ہی حکم ہے،چونکہ یہودی کفروخباثت اور ذلت طبع سب میں مشہور ہیں اس لیے صرف یہودی ارشاد ہوا۔
۲؎ یہ حکم اباحت یا استحباب کاہے اور خطاب حکام سے ہے یعنی اس کہنے پر اگر سامنے والا حاکم کے ہاں دعویٰ کر دے کہ اس نے میری توہین کی ہے تو حاکم اتنے کوڑے مارسکتا ہے۔معلوم ہوا کہ مسلمان کو کافر کہنا سخت جرم ہے۔
۳؎ مخنث وہ ہے جس کے اعضاء میں نرمی آوازعورتوں کی سی ہو اور بدکاری کراتا ہو،عورتوں کی طرح رہتا ہو، چونکہ یہ عمل نہایت ذلت کا ہے اور مخنث نہایت ذلیل ہے اس لیے کسی کو مخنث کہنے میں اس کی اہانت ہے جس پر ہتک عزت کا دعویٰ ہوسکتا ہے اور یہ سزا جاری ہوسکتی ہے،یوں ہی اگر کسی سے کہا او شرابی او زندیق او لوطی او سود خور او دیّوث او خائن او چوروں کی ماں ان سب میں یہ ہی سزا ہوسکتی ہے ۔(مرقات)اگر کسی کو کہا او کتے او سؤر اوگدھے تو اگر وہ شخص ذی عزت ہو جیسے عالم فقیہ سید تب تعزیر دی جائے گی،عوام میں سے ہو تو تعزیر نہیں کیونکہ یقینًا وہ انسان ہے کتا گدھا نہیں ہے لہذا یہ الفاظ محض گالی ہیں،گالی کا یہ ہی حکم ہے جو عرض کیا گیا،اس کی تفصیل یہاں اشعۃ اللمعات میں ملاحظہ کیجئے ۔
۴؎ امام احمد نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل فرمایا ہے،باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ شخص اس جرم کو حلال سمجھ کر کرلے تو مرتد ہے قتل کیا جائے ورنہ اس کا حکم زنا کا سا ہے کہ محصن ہے تو رجم کیا جائے غیر محصن ہے تو سو کوڑے مارے جائیں،غرضکہ یہ فرمان عالی یا مرتد کے لیے ہے یا دھمکانے کے لیے ۔