۱؎ یعنی تعزیر یا حد میں جب کوڑے لگائے تو مجرم کو منہ پر نہ لگائے تاکہ اس کا منہ بگڑ نہ جائے،انسان کی زینت منہ سے ہے،حضور فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا یعنی اپنی پسندیدہ صورت پر مگر رجم میں یہ حکم نہیں کہ وہاں تو پتھروں سے ہلاک کردینا ہے پتھر جہاں بھی لگے۔خیال رہے کہ منہ میں آنکھ ناک کان بھی شامل ہیں اور اس سے قریب ہی سربھی ہے جس میں مغز ہے اگر چہرے پر مار پڑے تو خطرہ ہے کہ مجرم اندھا بہرا یا دیوانہ ہوجائے،اس فرمان عالی میں ہزار ہاحکمتیں ہیں۔ہم نے بعض متقی استادوں کو دیکھا کہ وہ شاگرد کی پیٹھ پر چپت وغیرہ مارتے ہیں منہ پر تھپڑ نہیں مارتے اسی حکم عالی کی بنا پر۔