۱؎ تعزیر بنا ہے عزر سے،عزر کے معنے ہیں عظمت،حقارت،مدد اور منع وروک،اس کا استعمال زیادہ تر بمعنی روک اور منع ہے بلکہ مدد کو بھی عزر اور مدد دینے کو تعزیر اس لیے کہتے ہیں اس سے دشمن کو ایذا رسانی سے روکا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ"سزا کو تعزیر اسی لیے کہتے ہیں کہ اس سے جرم رکتے ہیں۔شریعت میں تعزیر اس کو کہتے ہیں جو شرعًا مقرر نہ ہو حاکم اپنی رائے سے دے۔خاوند کا بیوی کو،باپ کا بچوں کو،استاد کا شاگردوں کو سزا دینا تعزیز ہی ہے"وَاضْرِبُوۡہُنَّ"فرمایا نبی کریم نے اپنے بچوں سے ڈنڈا قمچی نہ ہٹاؤ،نیز فرماتے ہیں اﷲ تعالٰی اس شخص پر رحمت کرے جو اپنی قمچی سوٹی ٹانگے رکھے کہ بیوی بچے اسے دیکھتے رہیں اور درست رہیں۔(مرقات) حق یہ ہے کہ جن جرموں میں تعزیر کا حکم ہے وہاں ضرور تعزیر دے اور جن جرموں میں اس کا حکم نہیں وہاں تعزیر دینا واجب نہیں۔کسی نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اجنبی عورت کا بوسہ لے لیا، فرمایا کیا تو نے ہمارے ساتھ باجماعت نماز پڑھی عرض کیا ہاں فرمایا معافی ہوگئی "اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"اورتعزیر مجرم کے لحاظ سے دی جائے مجرم سرکش کو تعزیر بھی سخت دے شریف آدمی کو جو اتفاقًا گناہ کر بیٹھا تعزیر معمولی بھی کافی ہے۔