| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو سزا کو پہنچا ۱؎ پھر دنیا میں اسے سزا دے دی گئی ۲؎ تو اﷲ تعالٰی اس سے عادل تر ہے کہ اپنے بندے پر آخرت میں سزا مکرر فرمادے ۳؎ اور جو سزا کا مستحق ہوا پھر اﷲ نے اس کی پردہ پوشی فرمالی ۴؎ اور اسے معافی دے دی تو اﷲ کریم تر ہے اس سے کہ اس چیز کو لوٹائے جس سے معافی دے چکا۵؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی اس نے ایسا گناہ کیا جو شرعی حد لازم کرتا ہے جیسے زنا،چوری،شراب خوری،معلول بول کر علت مراد لی گئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ حد سے مراد حرام کام ہو جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَا"یعنی یہ چیزیں اﷲ کی محرمات ہیں۔(مرقات) ۲؎ یعنی اس پرشرعی حد قائم کردی گئی۔اشعہ نے فرمایا کہ اس میں حدوتعزیر دونوں داخل ہیں۔ ۳؎ کہ جب عادل بادشاہ کسی مجرم کو سزا دے کر دوبارہ سزا نہیں دیتے رب تعالٰی تمام عادلوں سے بڑا عادل ہے وہ ان شاءاﷲ آخرت میں اسے سزا نہ دے گا۔خیال رہے کہ یہ عدل ظلم کا مقابل ہے نہ کہ رحم کا لہذا کہہ سکتے ہیں کہ رب تعالٰی ہم پر رحم کرے عدل نہ کرے ورنہ ہم ہلاک ہو جائیں گے۔ ۴؎ اس طرح کہ اس جرم پر کسی کو خبردار نہ ہونے دیا اور مجرم کو توبہ مقبول کی توفیق بخش دی لہذا حدیث صاف ہے۔ ۵؎ یہ امید افزا کلام اس صورت میں ہے کہ بندہ کی پردہ پوشی ڈھیل دینے کے لیے ہے تو یہ غضب ہے جس کی سزا آخرت میں سخت تر ہے،اگر بندے کو اس پردہ پوشی کے بعد شرمندگی،توبہ کفارہ اداکرنے کی توفیق مل جائے تو ان شاءاﷲ یہ ستر رحمت ہے اور اگر بندہ اس ستر سے غلط فائدہ اٹھائے کہ گناہ پر اور زیادہ دلیر ہوجائے تو یہ ستر غضب ہے اﷲ تعالٰی توفیق خیر دے۔ دستگیرورہنما توفیق دہ جرم بخش و عفوکن بہ کشا گرہ