۱؎ خزیمہ خ کے پیش ز کے فتحہ سے،آپ انصاری اوسی ہیں،بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،پھرحضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک رہے،جب آپ کو حضرت عمار ابن یاسر کی خبرشہادت پہنچی تو بولے عمار کے بعد زندگی بیکار ہے تلوار نکالی میدان میں گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔(اکمال،اشعہ)
۲؎ لہذا جب زانی کو رجم یا چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ سزا اس کے اس جرم کا کفارہ بن گئی مگر قانون شرعی توڑنے کی توبہ کرنی پڑے گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس سے توبہ کرائی،ملکی قانون شکنی کی سزا یہ ہی رجم ہے اور رب تعالٰی کو ناراض کرنے کی معافی کے لیے توبہ ہے لہذا حدیث میں تعارض نہیں۔