روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ اسلمی ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی ذات پر چار بارگواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت سے حرام کیا ۲؎ اس پر ہر دفعہ ان سے حضور منہ پھیرتے رہے۳؎ پانچویں بار میں متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تو نے اس سے صحبت کی ۴؎ بولے ہاں فرمایا حتی کہ تیرا یہ اس عورت کی اس میں غائب ہوگیا ۵؎ بولے ہاں فرمایا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ۶؎ اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے ۷؎ بولے ہاں فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کیا ہے ۸؎ فرمایا ہاں میں نے اس سے وہ کام حرام کیا ہے جو خاوند اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے ۹؎ فرمایا تم اس سے چاہتے کیا ہو عرض کیا یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرمادیں ۱۰؎ تب آپ نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۱۱؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ میں سے دو شخصوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اسے تو دیکھو جس کی اﷲ نے پردہ پوشی فرمائی تھی مگر اس نے اپنے کو نہ چھوڑا حتی کہ کتے کی سنگساری کی طرح رجم کیا گیا ۱۲؎ حضور انور اولًا دونوں سے خاموش رہے پھر گھڑی بھر چلے حتی کہ مردار گدھے پرگزرے جو ٹانگ اٹھائے تھا۱۳؎ تو فرمایا فلاں فلاں کہاں ہیں وہ بولے یارسول اﷲ ہم یہ ہیں تو فرمایا کہ اترو اور اس مردار گدھے میں سے کھاؤ ۱۴؎ انہوں نے عرض کیا یانبی اﷲ اسے کون کھاتا ہے ۱۵؎ فرمایا کہ تم نے جو اپنے بھائی کی آبرو ریزی ابھی کی وہ اس میں سے کھالینے سے زیادہ بری ہے۱۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب جنت کی نہروں میں غوطے لگارہا ہے ۱۷؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ ماعز ابن مالک اسلمی جن کا واقعہ پہلے بار ہا کچھ فرق کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ ۲؎ گواہی سے مراد اقرار ہے کہ یہ اقرار گواہی کے قائم مقام ہے،نیز یہ اقرار چار دفعہ چارجگہ میں تھا جیساکہ پہلے معلوم ہوچکا اور اب بھی آرہا ہے۔ ۳؎ اس منہ پھیرنے میں چند حکمتیں تھیں:ایک یہ کہ ماعز آپ کے منہ مبارک کی طرف آئے تاکہ یہ اقرار پچھلے اقرار کی جگہ نہ ہو اس کی جگہ بدلی جائے۔دوسرے یہ کہ شاید اب بھی ماعز اقرار سے باز آجائیں اور سزا سے بچ جائیں زنا کے اقرار میں یہ ضروری ہے مگر ماعز پر تو توفیق الٰہی کا رنگ چڑھا ہوا تھا وہ تو بہرحال پاک ہونے جان فدا کرنے آئے تھے۔ ۴؎ نکت کے معنے پہلے بیان ہوچکے کہ یہ نیك سے بنا اجوف یائی باب ضرب یضرب کا ماضی ہے۔عربی میں یہ لفظ اس کام کے لیے صریحی ہے صحبت جماع وطی وغیرہ کنایہ،چونکہ حد میں صریحی اقرار چاہیے اس لیے حضور انور نے یہ لفظ ارشاد فرمایا۔ ۵؎ یعنی تیرا آلہ عورت کی فرج میں غائب ہوگیا،مراد حشفہ کا غائب ہونا ہے جس سے غسل فرض ہوجاتا ہے کہ زنا کی سزا کے لیے یہ ہی کافی ہے انزال یا پورا داخل ہونا شرط نہیں۔ ۶؎ مرود میم کے کسرہ ر کے جزم واؤ کے فتحہ سے بمعنی سرمہ لگانے کی سلائی۔مکحلہ کحل بمعنی سرمہ کا اسم ظرف یعنی سرمہ دانی نکت کے بعد یہ تشریح زیادہ وضاحت کے لیے ہے۔ ۷؎ پہلی مثال کنواری عورت کے لیے ہے دوسری مثال یعنی کنویں میں رسی ثیّبہ عورت کے لیے۔ ۸؎ یہ تفصیل دریافت فرمانا وطی بالشبہ سے بچنے کے لیے ہے کہ بعض آدمی وطی بالشبہ کو زنا سمجھ لیتے ہیں۔ ۹؎ اھل قرآن مجید کی اصطلاح میں بیوی کو کہتے ہیں،دیکھو ہماری کتاب فہرست القرآن۔لہذا اس سے بیوی مراد ہے مگر مرقات نے یہاں اھل میں لونڈی کو بھی داخل فرمایا۔ ۱۰؎ اس سوال و جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ماعز عرض کردیتے کہ آپ میرے لیے دعا ئے مغفرت فرما دیں تو شاید حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بجائے حد لگانے کے کوئی راہ نکال دیتے۔واﷲ ورسولہ اعلم! ۱۱؎ اس رجم کا واقعہ بالتفصیل پہلےگزرگیا کہ دوران رجم میں ماعز بھاگ گئے تھے صحابہ کرام نے بمشکل رجم کیا تو فرمایا کہ تم نے چھوڑ دیا ہوتا شاید توبہ اس کی رہائی ہوجاتی۔ ۱۲؎ اس کلام میں تعجب بھی ہے مردہ کی غیبت بھی اور ماعز کے پر خلوص فعل پر طعنہ بھی،یہ تینوں باتیں ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ زندہ کی غیبت سے مردہ کی غیبت زیادہ بری ہے کہ زندہ سے معافی مانگ سکتے ہیں مگر مردہ سے معافی کیسے مانگیں۔ ۱۳؎ شاید گفتگو کسی سفر میں ہوئی تھی۔شائل شول سے بنا بمعنی اٹھانا اسی لیے گھڑا اٹھانے والی عورت کو شائلہ کہتے ہیں اور دُم اٹھانے والی اوٹنی کو ناقہ شائلہ کہا جاتا ہے۔شائل پوز کے معنے میں بھی ترمذی شریف میں آیا۔ ۱۴؎ اترنے اور کھانے کے دونوں حکم اظہار غضب کے لیے ہیں نہ وجوب کے لیے نہ اباحت کے لیے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حرام گدھے کے کھانے کا حضور نے حکم کیوں دیا۔ ۱۵؎ یہ تو حرام بھی ہے مردار بھی اور طبیعت انسانی بھی اس سے نفرت کرتی ہے۔ ۱۶؎ کیونکہ گدھا کھانا مجبوری کی حالت میں جائز ہوجاتا ہے جان بچانے کے لیے مگر غیبت کسی حال میں جائز نہیں،نیز بحالت اختیار گدھا کھانا ہلکا گناہ ہے مگر ایسے طیب و طاہر نفس کی غیبت وہ بھی اس کی وفات کے بعد بڑا بھاری گناہ ہے ان وجوہ سے غیبت کو گدھا کھالینے سے سخت تر فرمایا گیا۔ ۱۷؎ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ماعزاسلمی شہیدوں کی طرح قیامت سے پہلے یعنی مرتے ہی روحانی طور پر جنت میں داخل ہوگئے وہاں کی نعمتیں استعمال فرما رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ برزخ کا عذاب و ثواب برحق ہے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جنت کی نہروں کو بھی ملاحظہ فرمارہے ہیں اور وہاں غوطے لگانے والے حضرت ماعز کو بھی دیکھ رہے ہیں حضور کی نگاہ سے کوئی چیز مخفی نہیں،جب حضور پر جنت جیسی دور کی دنیا پوشیدہ نہیں تو یقینًا حضور سے ہم اور ہمارے حالات بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتے حضور نے ماعز کو دیکھ کر یہ فرمایا،یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کی نہروں میں جنتی غوطے بھی لگائیں گے مگر لذت کے لیے نہ کہ میل دھونے کو کہ وہاں میل ہے ہی نہیں۔